Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
7 ماہ سے لاپتہ سماجی کارکن رضا محمود کی ناقابل یقین خبر سامنے آگئی | زرائع نیوز

7 ماہ سے لاپتہ سماجی کارکن رضا محمود کی ناقابل یقین خبر سامنے آگئی

کراچی: لاہور سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن رضا محمود خان 7 ماہ کی گمشدگی کے بعد باحفاظت واپس گھر پہنچ گئے۔

تفصیلات کے مطابق پاک انڈیا کے لیے ’آغاز دوستی‘ نامی ایک تحریک چلانے اور دونوں ممالک کے نوجوانوں کے مابین خوشگوار روابط قائم کرنے والے رضا کو سادہ لباس کپڑوں میں ملبوس افراد نے 2 دسمبر 2017 کو ماڈل ٹاؤن میں واقع اُن کی رہائش گاہ سے اٹھایا تھا۔

اہل خانہ کے علاوہ دیگر سماجی تنظیموں کے کارکنان نے رضا کی بازیابی کے لیے قانونی چارہ جوئی کے ساتھ مختلف علاقوں میں احتجاج جبکہ سوشل میڈیا پر #FindRaza کے نام سے ہیش ٹیگ متعارف کرایا تھا۔

احتجاج کرنے والے افراد نے مبینہ طور پر رضا محمود خان کی جبری گمشدگی کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اسے امن اور انسانی حقوق کے لیے بلند ہوتی ہوئی آواز کو خاموش کروانے کی کوشش قرار دیا تھا۔

اس سلسلے میں تھانہ ماڈل ٹاؤن کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) محمد عمران نے تصدیق کی کہ رضا خان کو پنجاب پولیس نے 10 روز قبل بازیاب کروایا تھا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق رضا خان مکمل طور پر صحت یاب ہیں لیکن وہ سیکیورٹی خدشات کی بنا پر کوئی بیان دینے سے قاصر ہیں۔

رضا محمود خان کی گمشدگی کے سلسلے میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں حکومت پاکستان سے ان کی باحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بیان میں ایمنسٹی ساؤتھ ایشیا کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈینوشکاڈیسانایک کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت رضا محمود خان کی گمشدگی کی تحقیقات کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کرے۔

بشکریہ ڈان نیوز


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔