Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
آئندہ عام انتخاب کب ہوں گے؟‌ آخر کار تاریخ‌ سامنے آگئی، صدر پاکستان کو سمری ارسال | زرائع نیوز

آئندہ عام انتخاب کب ہوں گے؟‌ آخر کار تاریخ‌ سامنے آگئی، صدر پاکستان کو سمری ارسال

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات کے لیےجولائی کے تین دن کی تاریخ تجویز کردیں جس کے مطابق الیکشن  25-27 جولائی تک منعقد کیے جائیں گے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ریڈیو پاکستان میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے صدر پاکستان کو الیکشن کی تواریخ کے حوالے سے سمری ارصال کردی جس میں ان سے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57(1) کے تحت اگلے عام انتخابات کے لیے ایک تاریخ چننے کا کہا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت 31 مئی کو اپنی مدت پوری کر رہی ہے جس کے تناظر میں الیکشن کمیشن کا یہ اعلان سامنے آیا۔

حکومت اور اپوزیشن میں نگراں وزیر اعظم کے لیے بھی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ ہفتے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے ساتھ اس حوالے سے ملاقات کی تھی۔

تاہم اس حوالے سے حتمی اجلاس منگل کے روز متوقع ہے جس کے لیے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف سے گزشتہ روز جاتی امراء میں ملاقات کی تھی۔

نواز شریف کے قریبی ساتھی اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما نے ڈان کو بتایا کہ ’اجلاس میں پہلے یہ نظریہ پیش کیا گیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نگراں وزیر اعظم کے لیے کوئی بھی نام سامنے لایا جائے، سب جانتے ہیں کہ اسے کنٹرول کون کرے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی صورت حال میں پارٹی میں بھی ایک نظریہ پایا جاتا ہے کہ ہمیں اس عہدے کے لیے نامزد کرنے پر دلچسپی نہیں لینی چاہیے جبکہ اگر اس طرح کا نظریہ اگر برقرار رہا تو یا پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کے اس اختیار پر حاوی آجائے گی یا پھر معاملہ ای سی پی کے حوالے ہوجائے گا۔

اس پیش رفت کی اطلاع رکھنے والے ایک اور رہنما نے ڈان کو بتایا کہ نواز شریف معاملے کو ای سی پی کے حوالے کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور چاہتے ہیں کہ اتفاق رائے ہوجائے۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔