اسلام آباد: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ 14 مئی کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میری میڈیا سے گفتگو کو براہ راست نشر نہ کرنے کا فیصلہ دراصل میرا ذاتی تھا۔
’جیو نیوز‘ کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’پریس کانفرنس کو بلیک آؤٹ قرار دینے کا تاثر غلط ہے، چونکہ وہ گفتگو ریکارڈڈ تھی لیکن اس بریفننگ میں کئی ایسی باتیں تھیں جو اگر نشر ہوجاتیں تو عوام مٰں غلط تاثر جاتا اس لیے باتوں کومحدود رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اس سے قبل وزیراعظم آفس میں پریس کانفرنس کے دوران شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان بالخصوص فاٹا کے عوام کے لیے قومی اسمبلی سے بل کی منظوری تاریخی کارنامہ ہے، فاٹا کے خیبر پختونخوا کے ساتھ ادغام کا معاملہ مسلم لیگ (ن) کے مینڈیٹ اور منشور کا حصہ رہا ہے جبکہ فاٹا اور دیگر علاقوں کے عوام کی بھی یہ دیرینہ خواہش تھی، قومی اسمبلی میں یہ بل دوتہائی اکثریت سے منظور ہوا ہے اور 229 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
