اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق صدورِ مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف اور آصف علی زرداری سمیت سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کے ملک اور بیرون ملک موجود اثاثوں کی تفصیلات فوری طور پر طلب کرلیں۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لائرز فاؤنڈیشن فار جسٹسس کے صدر ایڈوکیٹ فیروز شاہ گیلانی کی پٹیشن پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ مذکورہ افراد کے ملکی اور غیر ملکی اکاؤنٹس میں موجود کھاتوں، آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی تفصیلات عدالت کو فراہم کی جائیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف، آصف علی زرداری اور ملک محمد قیوم کے اہل خانہ کے اثاثہ جات کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں۔
دوران سماعت کیا ہوا؟
درخواست گزار نے پرویز مشرف، آصف علی زرداری اور ملک محمد قیوم سمیت قومی احتساب بیورو (نیب) کو مدعا علیہ ظاہر کیا۔
ایڈوکیٹ فیروز شاہ گیلانی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ نامزد افراد نے غیرقانونی طریقے سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اور اس ضمن میں بیشتر تفصیلات سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں ججز کے فیصلوں میں موجود ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرکے آئین سے بغاوت کی، قومی مصالحتی آرڈیننس (این آراو) کا اعلان کیا اور آصف علی زرداری سمیت متعدد سیاستدانوں کے کرمنل اور کرپشن سے متعلق کیسز کو ختم کردیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کرائی جا چکی ہیں جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ سابق صدر کے اثاثہ جات سمیت بینک اکاؤنٹ کی تفیصلات بھی پیش کی جائیں۔
اس حوالے سے جنرل (ر) پرویز مشرف کے وکیل نے 2 ہفتے کی مہلت طلب کی اور عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو 24 جون کو نوٹس جاری ہوا لیکن 3 جولائی کو وصول ہوا۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
