راولپنڈی: مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے داماد اور مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لےی نکالی جانے والی ریلی کے خلاف 15 رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
مقدمے میں کیپٹن (ر) صفدر، چوہدری تنویر، دانیال چوہدری، راجہ حنیف ، شیخ ارسلان، ضیاء اللہ شاہ سمیت 15 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ وارث خان کے ایس ایچ اومحمد ارحم کی مدعیت میں درج کیا گیا ، اس مقدمے میں سیکڑوں نامعلوم افراد کو بھی شامل کیا گیا۔
مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ نیب عدالت سے سزا یافتہ کیپٹن (ر) صفدر نے ریلی کی قیادت کی اور سڑک بلاک کی، نامزد ملزمان نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اورجرم کا ارتکاب کیا۔
تھانہ وارث خان میں درج مقدمہ نمبر 518 میں 3/4 ایمپلی فائر ایکٹ کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے جبکہ یہ مقدمہ دفعہ 341,188,147, 149اور3/7ایمپلی فائرایکٹ کی خلاف ورزی کے تحت درج کیا گیا ہے۔
مقدمے میں مسلم لیگ ن کے 2صوبائی اسمبلی اور ایک قومی اسمبلی کے امیدوار بھی نامزد ہیں۔
علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر دوسرا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنمائوں کے خلاف دوسرا مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ نیوٹائون میں درج کیا گیا ہے۔
کیپٹن صفدر کی گرفتاری
واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں قومی احتساب بیورو کی عدالت نے کپیٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی، لیگی رہنما عدالتی فیصلے کے بعد مانسہرہ میں روپوش ہوگئے تھے، اُن کی گرفتاری کے لیے نیب نے کوشش بھی کی۔
دو روز کے بعد کیپٹن (ر) صفدر گزشتہ روز اچانک منظر عام پر آئے اور انہوں نے ایک آڈیو میسج کے ذریعے ریلی کی صورت میں گرفتاری دینے کا اعلان کیا۔
مریم نواز کے شوہر کو گرفتار کر کے کہاں لے جایا گیا؟
ریلی راولپنڈی کے اندرونِ شہر سے ہوتی ہوئی ایک مقام پر پہنچی جہاں نیب اہلکاروں نے کیپٹن (ر) صفدر کو حراست میں لے کر اڈیالہ جیل منتقل کیا۔
ریلی میں شریک مسلم لیگ ن کے کارکنان ووٹ کو عزت دو اور نوازشریف کے حق میں نعرے لگا رہے تھے جبکہ گرفتاری سے چند لمحے قبل کیپٹن صفدر نے اپنی اہلیہ کے حق میں نعرے لگوائے تھے کہ ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے، اُن کا اشارہ مریم نواز کی طرف تھا جس پر کارکنان نے بھرپور جواب بھی دیا۔
