کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ شہر قائد اور بالخصوص سندھ کے شہری علاقوں کے عوام نے متحدہ پاکستان پر اعتماد کرتا ہے اس لیے کراچی الطاف حسین کے اثرورسوخ سے مکمل آزاد ہوچکا۔
وائس آف امریکا کو دیے گئے انٹرویو میں خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ 22 اگست کے بعد ہم بانی ایم کیو ایم اور لندن سے اس لیے علیحدہ ہوئے کہ انہوں نے ملک اور ریاست مخالف نعرے لگائے اسی وجہ سے ووٹر بھی الطاف حسین سے دور ہوا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ووٹر کے دل سے الطاف حسین کا سحر ختم ہوگیا اور وہ اب کہیں بہت دو چلا گیا یہی وجہ ہے کہ ضمنی انتخابات میں عوام نے ہمیں اعتماد کا ووٹ دیا۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کراچی کی سیاست میں غیر متعلق ہوچکے ہیں وہ اب کسی سیاسی جماعت یا آزاد امیدواروں پر الیکشن میں ہاتھ بھی رکھیں گے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ایم کیو ایم کنونیئر کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہمارا مقابلہ صرف تحریک انصاف سے ہے کیونکہ وہ اب سیاسی حقیقت بن چکی، شہر میں دیگر جماعتیں پی ایس پی اور پی پی عوام کا اعتماد حاصل کبھی نہیں کرسکتیں بلکہ پاک سرزمین پارٹی اپنی بنیاد پر تو ایک یونین کونسل جیتنے کی بھی اہل نہیں،
پی ایس پی اور پی ٹی آئی کے ممکنہ سیاسی اتحاد پر خالد مقبول کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے اگر پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا تو انہیں ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔
خالد مقببول صدیقی نے کہا کہ کراچی کی سیاست ملکی صورتحال پر اثر انداز ہونے کی اہلیت رکھتی ہے، اگر شہر میں مردم شماری درست طریقے سے کی جاتی تو کم از کم قومی اسمبلی کی 40 اور صوبائی اسمبلی کی 80 سیٹیں مزید نکلتیں۔
انتخابات کے بعد کا لائحہ عمل بتاتے ہوئے متحدہ سربراہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کے بعد کسی بھی جماعت سے اتحاد کے لیے دروازے کھلے ہیں حتیٰ کہ تحریک انصاف جیسی جماعت بھی اب ہماری پالیسیوں کی تائید کرتی ہے، ماضی میں پی ٹی آئی سے تلخیوں کی وجہ لندن قیادت تھی جس سے ہم پہلے ہی علیحدہ ہوچکے۔
خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ اب تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے مابین کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ہم مضبوط بلدیاتی نظام اور مقامی حکومت کے حامی ہیں۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
