Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
شہباز شریف کے بڑی مشکل، بدنامِ زمانہ ان کاؤنٹر اسپیشلسٹ نے زبان کھول دی.. ویڈیو دیکھیں

شہباز شریف کے بڑی مشکل، بدنامِ زمانہ ان کاؤنٹر اسپیشلسٹ نے زبان کھول دی.. ویڈیو دیکھیں

لاہور: پنجاب پولیس کے بدنامِ زمانہ جعلی ان کاؤنٹر اسپشلسٹ عابد باکسر نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شریف برادران نے جھوٹے مقدمات میں نامزد کرکے مجھے مارنے کی منصوبہ بندی کی جبکہ شہبازشریف کے بیٹے حمزہ شہباز نے فواد حسن فواد کو میرے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔

لاہور پولیس کےانکاؤنٹر اسپشلسٹ عابد باکسر نے اپنی نئی ویڈیو میں شریف بردارن کے کالے کرتوں پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے تہلکہ خیز انکشافات کیے، عابد باکسر نے الزام لگایا کہ شریف برادران نے جھوٹے مقدمات میں نامزد کرکے انہیں جعلی پولیس مقابلے میں مارنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

عابد باکسر کا کہنا تھا کہ میرے خلاف بیان دلوانے کیلئے ماموں کو تشدد کرکے قتل کردیاگیا، حمزہ شہباز نے فواد حسن فواد کو میرے خلاف کارروائی کا کہا، حمزہ شہباز نے خط میں کہا ہمیں قانونی یا غیرقانونی لفظ سننے کی عادت نہیں۔

خیال رہے کہ فروری کے آغاز میں پنجاب پولیس کے سب انسپکٹر اور معروف انکاؤنٹراسپیشلسٹ عابد باکسر کو دبئی میں انٹرپول کے ذریعے حراست میں لیا گیا تھا، ملزم جعلی پولیس مقابلوں میں مطلوب تھا۔

ملزم عابد باکسر کے خلاف پنجاب میں قتل اور اقدام قتل کے درجنوں مقدمات درج ہیں جو جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کیے گئے افراد کے لواحقین کی جانب سے درج کرائے گئے تھے تاہم پولیس افسر مقدمات کا سامنا کرنے کے بجائے دبئی فرار ہو گیا تھا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے معطل کیے گئے پولیس انسپکٹر کے خلاف جعلی پولیس مقابلوں میں معصوم شہریوں کے قتل، اغواء برائے تاوان ،قواعد و ضوابد کی خلاف ورزی اور جرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے پر زندہ و مردہ گرفتاری پر انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔