ووٹ جنکو دئیے وہ کھرب پتی اور جہنوں نے ووٹ دیئے وہ روڈ پتی ہیں
تجزیہ: سید محبوب احمدچشتی
25، جولائی مفاداتی، مجبوری، بےبسی لیکن ایک سبق آموز دن ہوگا کیونکہ کہ قوم نے اگروہی کیا جوکئی سالوں سے کرتے آئی ہے تو پھر اس اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے کیونکہ پاکستان میں اگرووٹ کی عزت ہوتی تو لاکھوں ووٹ لینےوالا جیل میں نہ ہوتااگرووٹ کی عزت ہوتی تو ایم این اے ایم پی ایز۔سینٹرز کے ہوتے ہوئے آفس گرائے نہیں جاتے ووٹ کی پاکستان میں اگرعزت ہوتی تو فیصلے رات کودوبجے نہیں آتے پاکستانی سیاست میں ووٹ کی قدروقیمت کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ ووٹ جنکودئیے وہ کھرب پتی اور جہنوں نے ووٹ دیئے وہ روڈپتی ہیں۔
اس ووٹ کو عزت جب ہی ملےگی جب بلارنگ ونسل سب کاجی ہاں سب کا احتساب ہوگااس الیکشن کی عالمی سطع پر کیااہمیت ہے اس کاانتظار ہے اوراگر یہ کہا گیاکہ ہم کسی عالمی سطع وغیرہ کونہیں مانتے ہیں تو یہ بات اس وقت اچھی لگتی ہے جب آئی ایم ایف اور گوروں کا قرضہ نہ ہو المیہ دیکھیے کہ محلات۔اثاثے۔
کڑور پتی ہوکر قوم سے ووٹ کی بھیگ مانگ رہے ہیں جو پارلیمانی سیاست غریبوں کو ایوانوں میں نہیں برداشت نہیں کرسکتی اس الیکشن میں ہم ووٹ کیوں دیں کیونکہ ووٹ عوام کی تقدیر نہیں بدلتے بلکہ سرے محل۔بنی گالہ۔شوگرملز۔ویگو۔ہیلی کاپٹر ان جیسوں کی جائیداد میں اضافے کاسبب ہی بنتے ہیں اس لیئے جب تک اصل محب وطن نہ آجائیں ایسے نااہل بیکار بے بس مجبوری کے ماروں کو ووٹ نہ دیاجائے
