Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
کرونا لاک ڈاؤن، ملازمین کی طرفیاں روکنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی آسان قرضہ اسکیم | زرائع نیوز

کرونا لاک ڈاؤن، ملازمین کی طرفیاں روکنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی آسان قرضہ اسکیم

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کرونا لاک ڈاؤن کے دوران ملازمین کی نوکریاں بچانے کے لیے نئی قرضہ اسکیم متعارف کرادی جس کے تحت انڈسٹریلسٹ کو تین ماہ کی تنخواہوں ، ویجز اور دیگر اخراجات آسان شرائط پر فراہم کیے جائیں گے۔

اسٹیٹ بینک کا بڑا اقدام
ملازمین کو برطرفی سے بچانے کے لیے اسٹیٹ بینک کی نئی ری فنانس اسکیم ، اسکیم کا بنیادی مقصد کاروباری اداروں کو ترغیب دینا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران ملازمین کو برطرف نہ کریں۔ اسکیم کے تحت ان کاروباری اداروں کو جو اپریل تا جون 2020ء کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہیں کریں گے اِن تین مہینوں کی اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔

مستقل، کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز سمیت ہر قسم کے ملازمین نیز آؤٹ سورس کارکن بھی شامل ہوں گے، اسکیم کے تحت لیے گئے قرضوں پر مارک اپ 5 فیصد تک ہوگا، قرض لینے والے جو افراد ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل ہیں وہ مزید کم یعنی 4 فیصد مارک اپ ریٹ پر قرضے حاصل کرسکیں گے، اسکیم چھوٹے کاروباری اداروں کو ترجیح دینے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

جن کاروباری اداروں کی تین ماہ کی اجرتوں اور تنخواہوں کا خرچ 200 ملین روپے تک ہے وہ اس پوری رقم کی فنانسنگ حاصل کرسکیں گے، وہ کاروباری ادارے جن کی اجرتوں اور تنخواہوں کا خرچ 500 ملین روپے سے زیادہ ہےوہ اس خرچ کے 50 فیصد تک فنانسنگ حاصل کرسکیں گے، ۔ درمیانی کٹیگری میں آنے والے تین ماہ کی اجرتوں اور تنخواہوں کے خرچ کے 75 فیصد تک فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔

بینک اس اسکیم کے تحت قرضے کی پروسیسنگ فیس، کریڈٹ لمٹ فیس، پری پیمنٹ پینالٹی چارج نہیں کریں گے، ۔ قرض کی اصل رقم کی ادائیگی دو سال میں کرنی ہوگی جبکہ قرض لینے والوں کو چھ ماہ کی رعایتی مہلت بھی دی جائے گی۔