بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کا امکان

لندن: اشتعال انگیز تقریر کیس میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے بانی ایم کیو ایم کو دی جانے والی ضمانت ختم ہوگئی اور آج وہ دوپہر کو پولیس اسٹیشن میں پیش ہوں گے۔
ذرائع کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کا امکان ہے جس کے باعث اُن کے حامی کارکنان اسکاٹ لینڈ یارڈ اور برطانوی حکومت سے مختلف اپیلیں کررہے ہیں۔
اس ضمن میں سوشل میڈیا پر بھی خصوصی ٹرینڈز #JusticeForAltafHussain اور دیگر چلائے گئے جبکہ ایم کیو ایم کے کارکنان اور عہدیداران کی جانب سے اسکاٹ لینڈ یارڈ اور برطانوی حکام کو ای میلز بھی کی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ پیشی پر کراؤن پولیس نے بانی ایم کیو ایم کی ضمانت میں دس اکتوبر تک توسیع کی تھی، اُن پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان میں اپنے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اشتعال اور نفرت انگیز تقاریر کیں جس کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی۔
حکومت پاکستان کی جانب سے دوبارہ درخواست پر بانی ایم کیو ایم کے خلاف کیس کھولا گیا ہے اور وہاں پر ایک بڑی کمپنی کا وکیل بانی ایم کیو ایم کے خلاف کیس لڑ رہا ہے جس کی فیس ہزاروں پاؤنڈز میں ہے جبکہ الطاف حسین کو عادل نامی وکیل سمیت دیگر کی خدمات حاصل ہیں۔
دوسری جانب کیس میں اہم پیشرفت یہ بھی سامنے آئی کہ ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ نے اپنا تحریری بیان اسکاٹ لینڈ یارڈ کو جمع کرادیا جس کے مطابق انہوں نے اپنی جان جانے کا خدشہ ظاہر کیا اور بتایا کہ ہے ایم کیو ایم کی قیادت نے شوہر کو قتل ہونے کے بعد اُن کو چھوڑ دیا تھا جبکہ سیاسی مقاصد جیسے برسی وغیرہ کے موقع پر قیادت آکر سیاسی مقاصد پورے کرلیتی ہے۔
برطانوی پولیس نے شمائلہ فاروق کی رہائش گاہ پر اسپیشل سیکیورٹی سسٹم فراہم نصب بھی کردیا اور انہیں ساتھ یہ یقین دہانی کرائی کہ جان کو خطرے سے متعلق کوئی خاص اطلاع نہیں ہیں۔
شمائلہ فاروق نے اپنے شوہر کی 9ویں برسی کے موقع پر پولیس کو دیے گئے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’’انہیں خوف محسوس ہوتا ہے میرا انجام بھی عمران فاروق جیسا نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ قتل کے ملزمان محسن سید اور کاشف کامران کی تصاویر دکھائی گئی تھیں، ان میں سے ایک کو فوراً شناخت کر لیا تھا، وہ ہمیں گھر کے پاس ملا تھا۔
بیوہ عمران فاروق کا یہ بھی کہنا تھا کہ قتل کے بعد ایم کیوایم نے مجھے سیاسی فوائد کے لیے استعمال کیا، متحدہ قومی موومنٹ میری مدد کے حوالے سے کبھی بھی سنجیدہ نہیں ہوئی بلکہ انہوں نے ہمیشہ میرا استحصال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران فاروق کے قتل کے بعد سے آج تک خوشی نہیں دیکھی، پارٹی قیادت نے ابتدائی دنوں میں ’کچھ امداد‘ ضرور کی تھی۔
‎عمران فاروق کی بیوہ نے کہا کہ جب احساس ہوا کہ قیادت میری مدد کے حوالے سے سنجیدہ نہیں تو میں بھی لاتعلق ہوگئی، کینسرکی تشخیص کے بعد مدد نہ ملنے پر خود کو لاچار اور تنہا محسوس کر رہی ہوں۔

وضاحت انویسٹیگیشن

اپنا تبصرہ بھیجیں: