Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
غریب اور جشن آزادی--- تحریر: عمیر دبیر | زرائع نیوز

غریب اور جشن آزادی— تحریر: عمیر دبیر

ملک بھر میں 72ویں جشن آزادی کی آمد آمد ہے ، پوری قوم اس پرمسرت دن کا انتظار کررہی ہے کہ وہ چودہ اگست کو شیان شان طریقے سے یوم آزادی کی تقاریب میں حصہ لیں گے، تعلیمی اداروں ، سرکاری دفاتر میں بھی اس ضمن میں تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا۔

ایک روز قبل جب گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ بچوں کے اسکول میں جشن آزادی کی تقریب منعقد کی جائے گی جس میں طلباء اپنی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن سے والہانہ محبت کا اظہار کریں گے۔

بچوں کے بیگ سے ایک نوٹس ملا جو اسکول انتظامیہ کی جانب سے والدین یا سربراہان کو بھیجا گیا، اُس میں واضح طور پر تنبیہہ کی گئی چودہ اگست کے سلسلے میں تقریب کا انعقاد ہے، تمام والدین اپنے بچوں کو نئے سفید لباس میں بھیجیں اور بچیوں کو پرچم کے رنگ کے کپڑے پہنائیں۔

انتظامیہ نے نوٹس میں لکھا تمام بچے پاکستان کے پرچم کے رنگ سے مماثلث رکھے کپڑے ضرور پہنیں، ساتھ میں سینے پر بیج اور یک جھنڈا جس کا مخصوص سائز بھی بتایا گیا وہ بھی بھیجنا ہے۔

اسکول انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ اگر والدین یا سربراہ نوٹس پر عملدرآمد نہیں کرواسکتے تو بچوں کو اسکول بھیجنے کی زحمت نہ کریں۔

یہ ایک پرائیوٹ اسکول کا حال تھا جہاں ماہانہ فیس ادا کی جاتی ہے اس کے بعد میں نے علاقے میں موجود دو سرکاری اسکولوں کی انتظامیہ سے بات کی، نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انہوں نے بھی یہی بتایا کہ بچوں کو جھنڈے کے رنگ والے لباس، بیج اور جھنڈا لے کر آنا ہے۔

اس تمام صورتحال کے بعد میری ہمشیرہ بازار گئیں، 14 اگست  کے لیے مخصوص لباس خریدے، بیج، جھنڈا سب خریدنے میں تقریبا ڈھائی ہزار روپے کے اخراجات آئے جس کا بندوبست کرنا کسی بھی متوسط اور غریب طبقے کے فرد کے لیے مشکل کام ہے۔

چونکہ مہنگائی نے ویسے ہی لوگوں کو کمر توڑ رکھی ہے، آلو فی کلو 80 روپے سے زائد فروخت ہورہے ہیں ایسی صورتحال میں یک دم اتنے پیسوں کا خرچہ یقینا کسی بھی شخص کے لیے پریشان کن ہے۔

پل بھر میں خیال آیا کہ اللہ رب العزت کا ہم پر خاص کرم ہیں مگر یہ مرحلہ اُن غریبوں کے لیے کس قدر پریشانی اور حزیمت کا ہوگا کہ جو اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات بمشکل پورے کرتے ہیں، جن کے گھر وں میں سالانہ خریداری ہوتی ہے۔

ازراہ کرم اسکول انتظامیہ سے گزارش ہے کہ وہ غریب پر بوج نہ بڑھائیں، قومی دنوں کے حوالے سے جن بھی پروگراموں کا انعقاد کیا جائے اُن میں کوئی شرائط نہ رکھیں کیونکہ قائد اعظم نے پاکستان سب کے لیے بنایا جہاں تمام اکائیوں کو مکمل جینے کا حق ہو۔

صاحب استطاعت لوگوں کو بھی ایسے بچوں اور والدین کا خیال رکھنا چاہیے جو سفید پوشی کی وجہ سے بچوں کو 13 اگست کی رات دیر سے سلاتے ہیں تاکہ صبح یہ بہانا بناسکیں آنکھ نہیں کھلی ورنہ اسکول بھیج دیتے۔

آزادی کا جشن اس طرح منانا چاہیے کہ غریب ، امیر، متوسط طبقے کے سب لوگ بلا شرم و جھجھک ہر جگہ آسکیں، اُن کر پابندی نہ ہو کہ وہ فلاں جگہ کے پروگرام میں نہیں جاسکتے جہاں وزرا شریک ہوں۔