شہر قائد میں سروس روڈز، فٹ پاتھ پر غیرقانونی تجاوزات و نرسریاں قائم۔۔ بلدیاتی ادارے اورمحکمہ پارکس انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مصروف۔۔ شہر کی اہم ترین شاہراہ فیصل بلوچ کالونی سے ایف ٹی سی فلائی اوور پر مافیا کاراج۔۔
کراچی(رپورٹ:سیدمحبوب احمدچشتی) : بلدیاتی اداروں اور محکمہ پارکس کی ملی بھگت سے شہر کراچی میں سروس روڈز اورفٹ پاتھ پر تجازوات ونرسریاں عوام کے لیئے شدید اذیت کاباعث بن چکی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کراچی کے سروس روڈز اور فٹ پاتھ قابضین نے تجاوزات زدہ بنا دئیے، شہر کی سب سے بڑی اور اہم ترین شاہراہ فیصل کے سروس روڈز کو بھی مافیا نےپارکنگ، ٹھیلے پتھاروں کی آماجگاہ بنا رکھا ہے جبکہ بلوچ کالونی سے ایف ٹی سی فلائی اوور سے قبل تک شاہراہ فیصل پر نہ فٹ پاتھ کا تصور باقی رہا ہے اور نہ ہی سروس روڈ موجود ہے۔
اسی طرح شاہراہ قائدین، شہید ملت روڈ پر فٹ پاتھ کوپیدل چلنے والوں کیلئے ممنوع جگہ بنا دیا گیا ہے جبکہ مذکورہ سڑکوں سمیت کراچی کی مرکزی نوعیت کی شاہراہوں کی سینٹرل آئی لینڈ، گرین بیلٹس اور سروس روڈز پر جہاں دیگر تجاوزات موجود ہیں وہیں بلدیاتی اداروں کی ملی بھگت سے پودوں کی نرسریاں قائم کردی گئیں جو کہ انسانی حقوق کی ایک اور سنگین خلاف ورزی ہے۔
آئین پاکستان کے تحت بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی سنگین جرائم میں شامل ہے جس کی اس قدر سخت سزائیں ہیں کہ اگر انکا اطلاق کراچی میں کر دیا گیا تو کراچی میں سرکاری اداروں سمیت عام عوام کی پچاس فیصد آبادی سزا دیکر جیلوں میں بند کیا جاسکتا ہے۔
کراچی میں سروس روڈز اور فٹ پاتھ پر قائم غیر قانونی نرسریوں کی اکثریت بلدیاتی اداروں کے محکمہ پارکس کی ملی بھگت سے قائم کی گئیں ہیں اور باقاعدگی سے بلدیاتی اداروں کی مکمل پشت پناہی کی وجہ سے ان کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔
کراچی اسوقت جہاں دیگر بلدیاتی سہولیات سے عاری ہے وہیں سروس روڈز اور فٹ پاتھوں کو عوامی سہولیات سے محروم کر کے بلدیاتی ادارے سنگین غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں جس کا خمیازہ شہری شاہراہوں پر ٹریفک جام کی صورت میں بھگت رہے ہیں اگر شہر کی سروس روڈز تجاوزات و غیر قانونی پارکنگ سے آزاد کر دی جائیں تو شاہراہوں پر ٹریفک جام میں متبادل کے طور پر سروس روڈز استعمال کی جا سکتی ہیں جبکہ فٹ پاتھوں کو پیدل چلنے والوں کے استعمال میں رکھ کر ٹریفک حادثات روکے جاسکتے ہیں کیونکہ شہری اسوقت فٹ پاتھوں پر تجاوزات کی بھرمار کی وجہ سے سڑکوں پر پیدل چلنے پر مجبور ہیں جو بعض اوقات مہنگا ثابت ہو جاتا ہے.تمام بلدیاتی اداروں کے زمہ داران اس صورتحال سے آگاہ ہونے کے باوجود خواب غفلت کامظاہرہ کررہے ہیں اور عوام کو شدید پریشانیوں میں مبتلاکررہے ہیں۔۔
