Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی میں‌ عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار | زرائع نیوز

کراچی میں‌ عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار

شہرقائدمیں عطائی نام نہاد ڈاکٹرز کی بھرمارعوام کی جان ومال داؤپر۔ ایسے عطائیوں کی تعداد ہزار کےقریب پہنچ چکی ہے۔

حکومت سندھ محکمہ صحت کب ان مافیاز کے خلاف کاروائی کرے گا؟۔ چیف جسٹس آف پاکستان اورقانون نافذکرنےوالے ادارے کب کریک ڈاؤن کاآغاز کرینگے؟۔۔ بااثرمافیاز کی ممکنہ سہولت کاری بڑی وجوہات ہیں۔۔

کراچی(رپورٹ:سیدمحبوب احمدچشتی)

کراچی شہریوں کی جان ومال سے کھلینے کاسلسلہ جاری۔ذرائع کے مطابق شہرقائد میں ایلو پیتھک، ہومیو پیتھک اور طب میں عطائیوں کی بھرمار نے شہریوں کی جان ومال کوداؤپرلگادیا ہے مگر اب تک ان کیخلاف کاروائیوں کا دائرہ کار وسیع ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے؟، کراچی میں مختلف نوعیت کے عطائی ڈاکٹرز کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی ہے جو کھلے عام گلی، محلوں میں معصوم شہریوں کو برستانوں کا راستہ دکھا رہے ہیں۔بااثرمافیاز کی ممکنہ سہولت کاری بڑی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

ایلو پیتھک عطائیوں میں زیادہ تر کا تعلق نرسنگ کے شعبے سے ہے جبکہ مستند ڈاکٹرز کی صحبت اختیار کر کے بھی کئی عطائی کلینکس کھول کر بیٹھے ہیں اسی طرح ہومیو پیتھک عطائیوں میں صرف کتابیں پڑھکر کلینک چلا رہے ہیں اور کھلے عام شہریوں کی جانوں کو ضائع کرنے میں مصروف ہیں تیسرا اور سب سے خطرناک عطائیوں کا گروپ جعلی حکیموں کے روپ میں متحرک ہے جو چند نسخوں کے عوض قوم کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے جبکہ جعلی حکیموں کے بارے میں یہ ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں کہ وہ اپنی ادویات میں “اسٹیریائیڈز “کا استعمال کرتے ہیں جو مریض کو یک دم صحت مند بنا کر آہستہ آہستہ موت کے منہ میں لے جاتا ہے جعلی حکیموں نے چھپے امراض میں بھی کئی مریضوں کو منہ چھپانے پر مجبور کر دیا ہے ان تمام حقائق کے باوجود براہ راست انسانی زندگیوں سے کھیلنے والوں کیخلاف محکمہ صحت حکومت سندھ کاروائی کرنے سے گریزاں دکھائی دے رہی ہے جبکہ اس کے مقابل حکومت پنجاب نے عطائیوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے جس کی حمایت میں ہائی کورٹ بھی میدان عمل میں آگئی اور اس نے حکومت پنجاب کے اس اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے عطائی ڈاکٹرز کے کلینکس سر بمہر کرنے کے اقدام کو درست قرار دیا ہے پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن پنجاب کے مکینوں کی صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ عدالتی حکمنامے میں کلینکس کھولنے اور چلانے کی ذمہ داری صرف چار قسم کے کوالیفائیڈز کو دی ہے جو پریکٹس جاری رکھتے ہوئے مریضوں کو صحت کیلئے معاونت فراہم کر سکتے ہیں اس میں پی ایم ڈی سی، این سی ایچ، این سی ٹی اور نرسنگ کونسل شامل ہیں جبکہ دیگر شعبوں کے طبی ماہرین کوکلینکس کھولنے کی اجازت نہیں ہے سندھ حکومت کا محکمہ صحت بھی پابند ہے کہ وہ مذکورہ چار کوالیفائیڈز کے علاوہ کسی اور کو ڈاکٹرز تسلیم نہ کرتے ہوئے ایلو پیتھک طریقہ علاج کو رائج کرے اور اگر کوئی مذکورہ کوالیفائیڈ نہ ہو تو فوری طور پر ان کے کسی بھی قسم کے طبی مراکز کو سر بمہر کر دے، پی ایم ڈی سی اور نرسنگ کونسل ایلو پیتھک طریقہ علاج کیلئے مستند ڈاکٹرز کی دستیابی کی ذمہ دار ہیں جبکہ این سی ایچ اور این سی ٹی کوالیفائیڈز مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اور حکیموں کی رجسٹریشن کے ذمہ دار ہیں. عوام کامطالبہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اورقانون نافذکرنے والےادارے ان باثرمافیازکولگام دیتے ہوئے انسانی جانوں سےکھیلتے ان مذبحہ خانوں نما کلینکس اور اسپتالوں کے خلاف کریک ڈاؤن کاحکمنامہ جاری فرماکر انسانیت کوبچانے میں اپناکردارادا کریں۔