انقرہ: مصری حکومت نے سابق حکمران محمد مرسی کی رات کی تاریکی میں تدفین کردی جبکہ نمازِ جنازہ میں عوام کو شرکت کی اجازت نہ دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز عدالت میں جاں بحق ہونے والے مصرکے سابق صدر محمد مرسی کو سپردِ خاک کردیا گیا۔ محمد مرسی سے خوفزدہ حکومت نے رات کی تاریکی میں ان کی تدفین انجام دی۔
مرحوم کے بیٹے احمد محمد مرسی نے فیس بک پر بتایا ہم نے جیل کے اسپتال میں محمد مرسی کے جسم کو غسل دیا اور جیل کی کی ہی مسجد میں نماز جنازہ اداکی جو صرف خاندان والوں نے پڑھی اور ان کی تدفین نصر شہر میں اخوان المسلمین گروپ کے ساتھ کی گئی۔
احمد مرسی نے بتایا کہ ’’بزدل حکومت نے ان کے آبائی قبرستان میں تدفین کو رد کردیا‘‘۔ سابق مصری صدر کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ’’میں ان ظالموں سے اپنے شوہر کے جسد خاکی کے لیے بھیک نہیں مانگوں گی‘‘۔
دوسری جانب اسلامی دنیا کے واحد رہنما ترک صدر رجب طیب اردگان نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے محمد مرسی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور سابق مصری صدر کو شہید قرار دیا۔
رجب طیب اردوگان کا کہنا تھا کہ ’’محمد مرسی جیسے لوگوں کو دنیا یاد رکھتی ہے، انہیں مسلمان کبھی فراموش نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے سمجھوتا کرنے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی، تاریخ کبھی ظالموں کو معاف نہیں کرے گی‘‘۔

ترکی میں محمد مرسی کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس میں رجب طیب اردگان سمیت عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
