سندھ پولیس کا ایس پی افغان شہری نکلا، نادرا نے شناختی کارڈ منسوخ کردیا
کراچی: سندھ پولیس کا سپرانٹینڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اور اسکا سُسرال مبینہ طور پر افغان شہری نکلے۔
ذرائع نیوز کو ملنے والی مصدقہ اطلاع کے مطابق مذکورہ ایس پی اور اہل خانہ کے خلاف بڑا ایکشن لے لیا گیا، انکشاف سامنے آیا تو شناختی کارڈ جاری کرنے والے نیم سرکاری ادارے نادرا نے شناختی کارڈ فوری بلاک کردیا۔
حساس ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایس پی اور اسکے سسرال والے افغانستان کے شہری ہیں، مذکورہ افسر کے قریبی عزیز افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔
رپورٹ کے بعد وزارت داخلہ نے دوسرے افراد کو غیر ملکی قرار دیتے ہوئے ان کی شناختی کارڈز منسوخ کر دیے۔ نادرا کی اس کاروائی کے بعد ایس پی اور دوسرے افراد کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور بینک اکاؤنٹس بھی بلاک ہو گئے۔
وزارت داخلہ طرف سے ان افغانیوں کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
ذمہ دار ذرائع کے مطابق ایس پی اور اس کے خاندان کے دوسرے افراد نے مبینہ طور پر نادرا سے جعلی قومی شناختی کارڈز بنوا رکھے تھے جبکہ ایس پی کی ایک سالی کے بیٹے افغانستان میں عرصہ دراز سے قابض غیر ملکی افواج انٹرنیشنل سکیورٹی ایسیسٹینس فورس (کمک ھو ھمکاری) یا (ISAF), نیٹو فورسز (NATO FORCES) اور افغان سی آئی اے (CIA) کے بھی ایجنٹ نکلے اور آجکل ابھی قومی شناختی کارڈز کی بنیاد پر وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور نیٹو فورسز اور افغان سی آئی اے کے لیے مبینہ طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
مذکورہ افغان شخص ایس پی پولیس فورس جوائن کرنے سے پہلے پاکستان آرمی میں سپاہی بھی بھرتی ہوا تھا اور ایک جنگ بھی لڑ چکا ہے۔ ایس پی کی سالی کے ایک بیٹے کے پاس پاکستانی میڈیا کا جعلی کارڈ بھی موجود ہے جس کا فائدہ اُٹھا کر وہ مبینہ طور پر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے جبکہ اسی کا ایک اور بھائی اسلام آباد پولیس کے ایک انسپکٹر کا آلہ کار بنا ہوا ہے جس نے نہ صرف اسکو سرکاری وردی اور کلاشنکوف دے رکھی ہے بلکہ اس کے زریعے جڑواں شہروں میں قانونی و غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کو حراست میں لے کر خفیہ پرائیوٹ ٹارچر سیلز میں منتقل کر کے ان کو ڈرا دھمکا کر ان سے بھاری رقوم بٹور کر رہا کر دیا جاتا ہے۔
حیران کن طور پر مبینہ افغان شہری ایس پی کے دو بیٹے بھی سندھ پولیس میں ملازمت کر رہے ہیں جن میں سے ایک انسداد دہشت گردی فورس میں کمانڈو ہے اور سندھ حکومت کی اعلی شخصیات کی سکیورٹی پر بھی تعینات ہے۔
ایس پی کا بڑا بیٹا ایک بار پولیس کی نوکری چھوڑ کر افغانستان بھی بھاگ گیا تھا اور وہاں مالٹوں کی ریڑھی لگا لی تھی مگر بعد ازاں ایس پی نے اسکو واپس بلوا کر دوبارہ پولیس کی نوکری دلوا دی۔تمام سرکاری اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والا ایس پی حال ہی میں پولیس فورس سے ریٹائر ہوا ہے۔
زرائع کے مطابق ایس پی نے دوران سروس مبینہ طور پر لاتعداد افغانیوں کو اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے حیدر آباد سے نادرا کے جعلی شناختی کارڈز بنوا کر دیے ہیں۔
زرائع کے مطابق ملک کی ایک اعلی ترین انٹیلیجینس ایجینسی کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں نادرا نے مبینہ افغان شہری ایس پی اور ان کی دوسرے خاندان کے افراد کے قومی شناختی کارڈز منسوخ کر کے ان کے خلاف تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔
اس ہولناک انکشاف کے بعد نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجینس ایجینسیز میں کھلبلی مچ گئی ہے بلکہ حکومتی ایوانوں کے بھی در و دیوار بھی کانپ اُٹھے ہیں جبکہ دوسری طرف سابقہ ایس پی نے دعوی کیا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں اور انھوں نے اپنے قومی شناختی کارڈ کو بلاک کرنے کے اقدام کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حکم پر ضلعی سطع پر بنائی جانے والی کمیٹی کے سربراہ ڈی سی حیدر آباد نے بھی ایس پی کو ایک لیٹر جاری کیا جس میں حکم دیا گیا ہے کہ ایس پی اور دوسرے افراد اپنے پاس موجود ریکارڑ، جس سے وہ خود کو پاکستانی شہری ثابت کر سکیں۔
