اسلام آباد: کرنسی اسمگلنگ کیس میں نامزد ماڈل ایان علی نے جلد وطن واپس آنے کا اعلان کیا ہے۔
ایان علی کو 14مارچ 2015ء کو اسلام آباد سے دبئی جاتے ہوئے بینظیر بھٹو ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا اور ان کے پاس سے پانچ لاکھ ڈالرز برآمد ہوئے تھے۔
ماڈل کے خلاف کرنسی اسمگلنگ کا مقدمہ درج کیا گیا جس پر انہیں جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی جب کہ ان کا نام ای سی ایل میں بھی ڈالا گیا۔
تاہم ایان علی کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے کے بعد وہ بیرون ملک روانہ ہوگئیں اور کئی مقدمے کی کئی سماعتیں بھی ہوئیں جن میں وہ غیر حاضر رہیں۔۔
ایان علی کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہنا تھا تھا کہ وہ آخری میڈیکل معائنے کے بعد جلد وطن واپس آجائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھ پر بغیر ثبوتوں کے منی لانڈرنگ سمیت سنگین الزامات لگائے گئے تھے، میں نے پاکستان اور اس کی عوام کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے’۔
As per this airport video if the former President’s PA Mushtaq Ahmed & Rehman Malik’s brother Khalid Malik was was there with me in Islamabad Airport’s Rawal Lounge why both of them were not arrested and why they are not in my FIR why they were not the part of any investigation. pic.twitter.com/7mAETAgG4I
— Ayyan (@AYYANWORLD) November 1, 2018
ایان علی نے کہا کہ میرے ساتھ ایئرپورٹ پر ویڈیو میں جو دو لوگ تھے انہیں کیوں نہیں پکڑا گیا؟ دونوں شخصیات کو نہ گرفتار کیا گیا، نہ مقدمہ بنا اور نہ ہی انہیں شامل تفتیش کیا گیا۔
My personal life has not done any damage to my Motherland Pakistan and the people of my country! People who thought it was a joke before saying whatever they wanted to utter from their mouths will get all their answers now on!
— Ayyan (@AYYANWORLD) November 1, 2018
انہوں نے بتایا کہ کرنسی اسمگلنگ کیس میں وہ وکلاء کی ٹیم تبدیل کرچکی ہیں جب کہ خرابی صحت اور ذہنی کیفیت کے سبب مقدمات کی پیروی نہیں کر سکی تھیں اس دوران ذہنی دباؤ کی وجہ سے معمولی دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔
ماڈل ایان علی کا مزید کہنا تھا کہ لوگ جو باتیں کرتے رہے ہیں ان تمام باتوں کا جلد جواب دوں گی اور میرے جوابات سب کو چپ کرا دیں گے۔
