صحافیوں کی جبری برطرفی کا دکھ مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ،ڈاکٹر فاروق ستار
عمیر علی انجم میڈیا مالکان کے لیے حسن صدیقی ہے جس نے بھارتی طیاروں کو پاش پاش کردیا تھا،سربراہ ایم کیو ایم بحالی کمیٹی
مظاہرے میں صحافی رہنماؤں کی عدم موجودگی نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ ان کو اپنے ذاتی مفادات زیادہ عزیز ہیں،عمیر علی انجم
یہ مسئلہ صرف ان صحافیوں کا نہیں ہے جن کو نوکریوں سےبرطرف کیا گیا ہے،ارباب چانڈیو ،نعمت اللہ بخاری ، سیدمحبوب احمدچشتی دیگرکا ہم نیوز ایکشن کمیٹی کے مظاہرے سے خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ صحافیوں کی جبری برطرفی کا دکھ مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کیونکہ مجھے بھی جبری طور پر پارٹی سے نکالا گیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ میری پوری جماعت صحافیوں کے حقوق کے حصول کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
عمیر علی انجم میڈیا مالکان کے لیے حسن صدیقی ہے جس نے بھارتی طیاروں کو پاش پاش کردیا تھا، اگر میڈیا بحران واقعی میں حکومت کا پیدا کردہ ہے تو مالکان صحافیوں کے احتجاج میں شریک ہوجائیں گے۔
جمعہ کو کراچی پریس کلب کے باہر ہم نیوز ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے عمیر علی انجم ،سینئر صحافی ارباب چانڈیو ،علی عمران جونیئر ،نعمت اللہ بخاری ،مختار احمد،عطا اللہ ذکی ابڑو،اعجاز سموں ،نصیر احمد.سیدمحبوب احمدچشتی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر سول سوسائٹی کے نمائندے ،وکلا برادری اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلقات رکھنے والی شخصیات موجود تھیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ صحافیوں کا معاشی قتل عام کیا جارہا ہے، ملک کے چوتھے ستون کو گرانے کی کوشش کی جارہی ہے جس پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فوج سرحدوں پر لڑتی ہے جبکہ صحافی اندرونی طور پر ملک کو درپیش مسائل پر اپنے قلم کے ذریعہ جہاد کرتے ہیں، میری جماعت صحافیوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے،اگر میڈیا کا موجودہ بحران واقعی حکومت کا پیدا کردہ ہے تو مالکان کو چاہیے کہ وہ صحافیوں کے شانہ بشانہ ان کی جدوجہد میں شامل ہوجائیں۔
انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی تنخواہوں میں تھوڑی بہت کٹوتی توقبول ہے لیکن ہم ان کی جبری برطرفیوں کو کسی صورت میں برداشت نہیں کریں گے، کسی ملک میں سماجی ترقی کی رفتار کم ہوجائے تو اسے تیزکیا جاسکتا ہے لیکن اگرقلم کے مزدوروں کا معاشی قتل عام کیا جائے گا تو یہ اقدام معاشرے کو تباہی کی طرف لے جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ عمیر علی انجم میڈیا مالکان کے لیے حسن صدیقی ہے جس نے بھارتی طیاروں کو زمین بوس کردیا تھا، عمیر علی انجم نے کہا کہ میری جدوجہد کسی ایک ادارے کے صحافیوں کے لیے نہیں ہے بلکہ میں ملک بھر کے صحافیوں کے حقوق کیلئے میدان عمل میں نکلا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جبری برطرفیوں کے خلاف آج ایک عام صحافی تو میرے شانہ بشانہ کھڑا ہے لیکن رہنمائی کا دعوی کرنے والے صحافی رہنماں کی عدم موجودگی نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ انہیں صحافیوں سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات عزیز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی ہماری جدوجہد کا آغاز ہوا ہے ۔ہم ہر اس میڈیا ہاس کے خلاف احتجاج کریں گے جو صحافیوں کے معاشی قتل عام میں ملوث ہے ۔ارباب چانڈیو نے کہا کہ یہاں صحافی تنظیموں کے رہنماں کونہ دیکھ کر انتہائی افسوس ہورہا ہے ۔یہ وقت انا کی جنگ کا نہیں بلکہ مل کر کھڑے ہونا کا ہے ۔میں ہر اس فرد کے ساتھ ہوں جو صحافیوں کے حقوق کے لیے میدا ن میں نکلے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ان صحافیوں کا نہیں ہے جن کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا ہے یہ تمام صحافیوں کا مسئلہ ہے اور اس کے لیے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔مختار احمد نے کہا کہ صحافیوں کی رہنمائی ایسے شخص کو دیا جانا افسوسناک ہے جس کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ہم کسی ایسی تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے جس کی رہنمائی صحافیوں کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ میں ہوگی ۔سید محبوب احمد چشتی نے کہا کہ ہم نے ایسی تبدیلی نہیں مانگی تھی جو صحافیوں کے چولھے ٹھنڈے کردے صحافتی تنظیموں سے امید ہے کہ وہ جلد اس جدوجہد کا حصہ ہونگے عمیر علی انجم نے جس جدوجہد کا آغاز کیا ہے مجھ سمیت ہرصحافی اس جدوجہد کا حصہ بنے گا
