بااثر فیملی کی بیٹی سے پسند کی شادی جرم بن گئی، بااثر افراد نے اثر رسوخ استعمال کر کے لڑکے اور لڑکے نہ صرف علیحدہ کروایا بلکہ علی کی والدہ اور بہن کو حوالات پہنچا دیا۔
گجرات سے تعلق رکھنے والے نوجوان علی حسن اور عائشہ فیاض نے خاندانی رسم و رواج کے برعکس پسند کی شادی کی، پسند کی شادی کو دنیا کا کوئی مذہب اور قانون غلط نہیں کہتا مگر بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی میں اسے گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔
اس معاملے میں خاندان کے خاندان اجھاڑ دیے جاتے ہیں ایسا ہی ایک واقعہ چند روز قبل نوبیاہتا جوڑے کے ساتھ پیش آیا۔
علی حسن اور عائشہ نے شادی کے لیے عدالت سے رجوع کیا ، راولپنڈی کی عدالت میں شادی کے بعد لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے علی اور عائشہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
لڑکے کے گھر والے با اثر خاندان سے تعلق رکهتے ہیں انہوں نے پولیس کی ملی بھگت سے علی کی والدہ اس کی بہن اور تین بھانجوں پر اغوا اور زنا بلجبر کا پرچہ کٹوایا جس کے بعد دو خواتین اور بھانجوں کو پولیس نے تھانے میں بند کردیا۔
علی اور عائشہ نے راولپنڈی کی ایک عدالت میں ایک استغاثہ زیر دفعہ 506 دائر کیا اور عائشہ نے مجسٹریٹ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروایا کہ اُس نے اپنی مرضی سے شادی کی، لڑکی نے عدالت کے سامنے ان لوگوں کا بھی نام لیا جن سے ان کو اور اس کے خاوند کو جان کا خطرہ ہے ۔
اب صورتحال یہ ہے کہ کھلی عدالت میں 22 سالہ عائشہ کے بیان کے باوجود پولیس نے علی کی والدہ اور چھوٹی بہن کو اغواہ کے جھوٹے مقدمے میں حراست میں لیا ہوا ہے اور عائشہ دارالامان میں بند ہے۔
عائشہ کے گھر والے جو کے ایک با اثر خاندان سے تعلق رکهتے ہیں انہوں نے پولیس کے ساتھ مل کر علی کی والدہ اس کی بہن اور تین بھانجوں پر اغوا اور زنا بلجبر کا پرچہ کٹوا دیا اور اب پولیس اٹھا کر لے گئ ہے علی حسن کی والدہ اس کی بہن اور اس کی بھانجیوں کو تھانے میں بند کر دیا ہے pic.twitter.com/YXWJ8aHmjn
— Aqeela Daud ( Tanveer ) (@Pakjazba2) March 31, 2019
لڑکی اور لڑکے نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر نوٹس لیں اور فوری طور پر حل کروائیں۔
