کراچی کی سڑکوں پر تعینات پولیس اہلکاروں سے عام طور پر عوام کو شکایت رہتی ہے کہ وہ پیسے بٹورنے کے لیے کچھ بھی کرتے ہیں حتی کہ جب پولیس نفری روکتی ہے تو بالخصوص نوجوان اپنی جیب میں کاغذات سے پہلے کھلے تلاش کرتے ہیں۔
ایک محاروہ ہے کہ ایک تالاب میں سب ایک جیسے نہیں ہوتے، اس کی تازہ مثال ایک روز قبل سامنے آئی کہ جب پولیس اہلکار نے رشوت کی پیش کش کرنے والے کو جواب دیا کہ اگر وہ باز نہ آیا تو اُس پر مقدمہ درج کیا جائے گا اور حوالات بھی بھیجا جائے گا۔
سوشل میڈیا صارف نے فیس بک کے گروپ حالات اپڈیٹ پر پولیس اہلکار کی تصویر شیئر کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور بتایا کہ مذکورہ واقعہ انہی کے ساتھ پیش آیا۔
حمزہ نے بتایا کہ پولیس اہلکار نے انہیں شاہراہ فیصل پر روک کر لائسنس اور گاڑی کا پرمٹ طلب کیا۔ ڈرائیور کے پاس چونکہ کچھ تھا نہیں تو اُس نے لین دین کا اشارہ دیا۔
پولیس افسر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر آپ رشوت کی بات کریں گے تو ایف آئی آر کاٹ کے گاڑی بند کردوں گا۔
حمزہ نے پولیس اہلکار کی فرض شناسی اور ایمانداری کو شاندار الفاظ میں سراہا، بعد ازاں دیگر صارفین نے بھی پولیس افسر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
