Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
سنگین غداری کیس، مسلسل عدالت کا مزاق بنانے کے باوجود مشرف کو ایک اور وارننگ | زرائع نیوز

سنگین غداری کیس، مسلسل عدالت کا مزاق بنانے کے باوجود مشرف کو ایک اور وارننگ

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پرویز مشرف کو بالکل آخری مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ وہ پیش نہ ہوئے تو دفاع کا حق کھو دیں گے۔

سپریم کورٹ میں سنگین غداری کیس کی سماعت ہوئی جس میں مشرف کی عدم حاضری پر عدالت نے پھر برہمی کا اظہار کیا۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو حکم دیا کہ اگر 2 مئی کو ملزم پیش ہو جائے تو اس کو قانونی حقوق حاصل ہوں گے جب کہ پرویز مشرف پیش نہ ہونے کی صورت میں اپنے دفاع کے تمام حقوق ختم کر دیں گے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ان درخواستوں کو زیرالتواء رکھتے ہیں اور 2 مئی کے بعد ان درخواستوں پر سماعت کریں گے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میرا مؤکل پاکستان آکر اپنا بیان ریکارڈ کرانا چاہتا ہے مگر اُسے ضمانت چاہیے۔

پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ میرا مؤکل پاکستان آ کر خود اپنا بیان ریکارڈ کرانا چاہتا ہے لیکن ان کی صحت کے مسائل سامنے آ رہے ہیں کیونکہ وہ کیمو تھراپی کراتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ کے آخری حکم کے مطابق سماعت 2 مئی کو ہونی ہے اور تحریری حکم کے مطابق 2 مئی تک سماعت ملتوی کرنے کی درخواست مشرف کے وکیل نے ہی کی تھی۔

مزید پڑھیں: سنگین غداری کیس:‌ سپریم کورٹ‌ کی پرویز مشرف کو آخری پیش کش اور وارننگ

پرویز مشرف کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سنگین غداری کیس جس قانون کے تحت چل رہا ہے اس کا سیکشن 9 بہت اہم ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سیکشن 9 سے متعلق کہا کہ دیکھنا ہو گا کہ سیکشن 9 ان حالات میں قابل استعمال ہے یا نہیں۔ ہمارے قانون سازوں نے بھی کچھ سوچ کر ہی سنگین غداری کیس کی شق 9 پر کام کیا تھا۔

سلمان صفدر نے کہا کہ اس کیس میں درخواست گزاروں کا اب کوئی کام نہیں رہا، وہ جو چاہتے تھے کہ غداری کیس پر ٹرائل شروع ہو وہ شروع ہو چکا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا ملزم پرویز مشرف 2مئی کو عدالت میں پیش ہوں گے ؟ جس پر پرویز مشرف کے وکیل نے کہا میں نے یہی مشورہ دیا ہے کہ پیش ہوں، یقین سے نہیں کہہ سکتا ،ان کی صحت کا معاملہ ہے، ہفتے میں دو مرتبہ انکی کیموتھراپی ہوتی ہے، کیموتھراپی کا عمل مکمل ہوا تو ضرور حاضر ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے پرویزمشرف کےٹرائل سے متعلق فیصلہ سنادیا، جس میں کہا گیا اگر 2 مئی کومشرف نہیں آتے تو دفاع کےحق سےمحروم ہوجائیں گے ، ایسی صورت میں ٹرائل کورٹ استغاثہ کےدلائل سن کر حتمی حکم جاری کردے۔

فیصلہ میں کہا گیا جو ملزم غیر حاضرہوجائے اس کے حقوق معطل ہوجاتے ہیں، دفعہ 342 ملزم کو اپنےدفاع کا موقع فراہم کرتی ہے ، ملزم یہ موقع ہی حاصل نہیں کرنا چاہتاتوپھر اسےدفاع کاحق نہیں رہتا ، دانستہ غیر حاضری کی صورت میں گواہ پیش کرنے کابھی حق نہیں رہتا۔

یہ بھی پڑھیں: شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باوجود مشرف کو الیکشن لڑنے کی اجازت

چیف جسٹس نے کہا اگر پرویز مشرف 2مئی آجاتے ہیں تو سارے حقوق بحال ہوں گے، نہیں آتے توچاہےوجہ کچھ ہو، استغاثہ کوسن کر حتمی حکم جاری کیاجائے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔