کوہستان قتل کیس کا آخری عینی شاہد گواہ افضل کوہستانی بھی گزشتہ ماہ ایبٹ آباد میں فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا، نوجوان کو کیس سے پیچھے نہ ہٹنے پر قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔
اب انکشاف سامنے آیا ہے کہ کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی تین لڑکیوں اور ایک لڑکے کے قاتلوں کو سیاسی جماعت کے رہنماؤں اور پولیس نے مکمل تحفظ فراہم کیا۔
نیا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی ہے اہم رہنماؤں اور اُس وقت کی صوبائی حکومت کے اہم وزرا سمیت اعلیٰ پولیس حکام بھی شامل تھے۔
انسانی حقوق کی معروف رضاکار اور کیس کی پیروی کرنے والی فرزانہ باری نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کی سابق حکمراں جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنماؤں اور پولیس نے کوہستان قتلِ کیس میں ملوث ملزمان کو تحفظ دیا اور اس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ڈاکٹر جہانزیب جمال الدینی کی سربراہی میں ہوا جس میں کوہستان قتل کیس کے معاملے پر گفتگو ہوئی، اجلاس میں ڈاکٹر فرزانہ باری نے اراکینِ کمیٹی کو بریفنگ دی۔
فرزانہ باری کا کہنا تھا کہ کوہستان قتل کیس کے پورے معاملے میں کچھ سراغ ابھی تک پوشیدہ ہیں، صوبائی بیوروکریسی اور سیاستدان ایک دوسرے کا ساتھ دے کر قتل میں ملوث افراد کو تحفظ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف خیبر پختونخوا پولیس نہیں بلکہ اے این پی کے رہنما بھی قاتلوں کو تحفظ دینے کی پشت پناہی کررہے ہیں۔
