Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
زراداری اور فریال تالپور کے پیروں تلے زمین نکل گئی، دورانِ سماعت دو شخصیات وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار | زرائع نیوز

زراداری اور فریال تالپور کے پیروں تلے زمین نکل گئی، دورانِ سماعت دو شخصیات وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار

جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں دو خواتین نے آصف زرداری اور فریال تالپور کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کی عدالت میں درخواست دائر کردی۔

تفصیلات کے مطابق سابق صدرآصف علی زرداری اوران کی ہمشیرہ فریال تالپوراحتساب نیب طلبی پر احتساب عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر سابق صدر کے وکیل نے عدالت سے استشنیٰ دینے کی درخواست کی۔

زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نےاستدعا کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری منصفانہ ٹرائل چاہتے ہیں، کمرہ عدالت چھوٹا ہے، 26 ملزمان اور 26 وکلاء کے ساتھ ساتھ میڈیا نمائندے بھی ہوں گے، زبانی درخواست کررہا ہوں، آصف زرداری اور فریال تالپور کو حاضری سے استثنیٰ دے دیں تو ٹرائل بہتر چلے گا۔

فاضل جج محمد ارشد ملک نے کہا کہ کوئی طریقہ کار بناتے ہیں جس سے آپ کو اور ہمیں دونوں کو ہی آسانی ہو۔

اسی دوران اہم پیشرفت اُس وقت سامنے آئی کہ جب دو خواتین نے ملزمان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کی عدالت میں درخواست دائر کی، خواتین کی شناخت کرن اور نورین کے ناموں سے ہوئی۔

دونوں نے درخواست میں لکھا ہ ہمارا نام ملزمان کی فہرست میں ہے لیکن ہم گواہی دینے کو تیار ہیں جس کے لیے ہم نے چیئرمین نیب جاوید اقبال کو بھی درخواست ارسال کی۔

جج ارشد ملک نے ان سے کہا کہ کیا آپ وعدہ معاف گواہ بنیں گی؟ جس پر انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ آصف زرداری سمیت دیگر ملزمان کے وکلا نے ملزم خواتین کے گواہ بننے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وعدہ معاف گواہ بننے کا مرحلہ نہیں ہے۔

جج نے نیب پراسیکیوٹر سے خواتین کی درخواست کے بارے میں استفسار کیا تو نیب پراسکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ مجھے دیکھنا ہوگا کہ انہوں نے کوئی درخواست نیب میں دی ہے یا نہیں۔

عدالت نے خواتین کو الگ الگ تحریری درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی۔