جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں دو خواتین نے آصف زرداری اور فریال تالپور کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کی عدالت میں درخواست دائر کردی۔
تفصیلات کے مطابق سابق صدرآصف علی زرداری اوران کی ہمشیرہ فریال تالپوراحتساب نیب طلبی پر احتساب عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر سابق صدر کے وکیل نے عدالت سے استشنیٰ دینے کی درخواست کی۔
زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نےاستدعا کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری منصفانہ ٹرائل چاہتے ہیں، کمرہ عدالت چھوٹا ہے، 26 ملزمان اور 26 وکلاء کے ساتھ ساتھ میڈیا نمائندے بھی ہوں گے، زبانی درخواست کررہا ہوں، آصف زرداری اور فریال تالپور کو حاضری سے استثنیٰ دے دیں تو ٹرائل بہتر چلے گا۔
فاضل جج محمد ارشد ملک نے کہا کہ کوئی طریقہ کار بناتے ہیں جس سے آپ کو اور ہمیں دونوں کو ہی آسانی ہو۔
اسی دوران اہم پیشرفت اُس وقت سامنے آئی کہ جب دو خواتین نے ملزمان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کی عدالت میں درخواست دائر کی، خواتین کی شناخت کرن اور نورین کے ناموں سے ہوئی۔
دونوں نے درخواست میں لکھا ہ ہمارا نام ملزمان کی فہرست میں ہے لیکن ہم گواہی دینے کو تیار ہیں جس کے لیے ہم نے چیئرمین نیب جاوید اقبال کو بھی درخواست ارسال کی۔
جج ارشد ملک نے ان سے کہا کہ کیا آپ وعدہ معاف گواہ بنیں گی؟ جس پر انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ آصف زرداری سمیت دیگر ملزمان کے وکلا نے ملزم خواتین کے گواہ بننے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وعدہ معاف گواہ بننے کا مرحلہ نہیں ہے۔
جج نے نیب پراسیکیوٹر سے خواتین کی درخواست کے بارے میں استفسار کیا تو نیب پراسکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ مجھے دیکھنا ہوگا کہ انہوں نے کوئی درخواست نیب میں دی ہے یا نہیں۔
عدالت نے خواتین کو الگ الگ تحریری درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی۔
