کراچی: سانحہ بلدیہ کیس میں گزشتہ تین سماعتوں سے سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، آج کی پیشی میں بھی عینی شاہد ملزم سامنے آیا جس نے ہولناک انکشاف کیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ بلدیہ کیس میں اہم پیشرفت اُس وقت سامنے آئی کہ جب تفتیشی افسران نے پرڈکشن مینیجر کو بطور گواہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔
گواہ نے بیان دیا ہے کہ ایم کیوایم رہنماؤں اور کارکنوں نے بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگائی، گواہ نے ایم کیوایم کی جانب سے فیکٹری مالکان سے بھتہ مانگنے کی تصدیق کی ہے۔
‘فیکٹری مالکان نے بتایا تھا کہ ایم کیوایم والوں نے 25 کروڑ بھتہ مانگا، میں نے ایم کیوایم کارکن زبیرچریا سے کہا کہ رقم ایک کروڑ کر دو اور معاملہ طے کرلو‘۔
https://zaraye.com/baldia-town-factory-case/
گواہ نے بیان دیا کہ زبیرچریا نے صاف انکار کرتے ہوئے جواب دیا کہ بھتے کی رقم 20 کروڑ سے کسی صورت کم نہیں ہوگی اور اگر متذکرہ رقم ادا نہیں کی گئی تو فیکٹری مالکان کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق گواہ نے بیان دیا کہ بھتے کے معاملات ایک ماہ تک طے نہ ہونے پر ملزمان نے فیکٹری کو آگ لگائی ، اس میں ایم کیو ایم کے کارکنان اور عہدیدار شامل تھے جنہیں دیگر لوگوں نے بھی دیکھا۔
واضح رہے گیارہ ستمبر2012کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی کا خوفناک واقعہ پیش آیا تھا ، جس کے نتیجے میں خواتین سمیت دو سو ساٹھ مزدور زندہ جل گئے تھے، بعد میں انکشاف ہوا تھا کہ ایک سیاسی جماعت نے بھتہ نہ ملنے پر فیکٹری کو آگ لگائی تھی۔
https://zaraye.com/baldia-town-witness/
