اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی خاتون نے اپنے دو سالہ بچے عبداللہ کی بازیابی کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا، اُن کی سماعت پر آج مقدمے کی سماعت ہوئی۔
عاصمہ رفیق نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ اُن کے بچے کو سسر اپنے ساتھ لے گیا تھا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے، جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی جس میں ایس پی اسلام آباد نعیم بھی پیش ہوئے۔
عاصمہ رفیق کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بچے کے والد کی رحلت کے بعد سسر فیاض بچے کو لے کر لاپتہ ہو گیا لہذا اُسے بازیاب کرا کے ماں کو دیا جائے جو اُس کا قانونی اور شرعی حق ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے ایس پی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ ‘فیاض کہاں پر ہے؟‘
ایس پی نعیم نے جواب دیا کہ ’سر اُسے تلاش کررہے ہیں، باقی اللہ بہتر کرے گا‘۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’اللہ تو بہتر کرے گا کچھ آپ بھی کریں، آپ کے ماتحت تو اس پر کوئی کام نہیں کریں گے، آپ سینئر ہیں اچھا نہیں لگتا، مگر خود کچھ کریں۔
جج نے استفسار کیا کہ ملزم کا موبائل نمبر ٹریس کیا، سی ڈی آر (کال ڈیٹا ریکارڈ) کیا کہتاہے؟
ایس پی نعیم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ فیاض کا نمبر بند ہے جس پر عدالت نے نادرا سے ریکارڈ طلب کر کے موبائل سمز کا معلوم کرنے کی ہدایت کی۔
ایس پی نعیم نے بتایا کہ فیاض کے نام پر 8 سمیں ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سارے نمبرز ٹریس کریں اور جلد از جلد عدالت کو آگاہ کریں کیو نکہ ویسے تو آپ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ ایجنسیوں کے پاس ہے، اس کیس میں بھی کہہ دیں کہ ایجنسیوں نے اٹھایا ہے، کب تک اس کیس میں پیش رفت ہوجائے گی۔
ایس پی نعیم نے کہا کہ سر اگلے ہفتے تک کی مہلت دیں جس پر عدالت نے 17 اپریل تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔
