Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
جنرل فیض پر سینیٹر خریدنے کا الزام، آصف غفور میدان میں‌ آگئے | زرائع نیوز

جنرل فیض پر سینیٹر خریدنے کا الزام، آصف غفور میدان میں‌ آگئے

اسلام آباد: ملک کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی جس میں اپوزیشن جماعتوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

سینیٹ کا اجلاس بیرسٹر سیف کی سربراہی میں شروع ہوا جس میں انہوں نے میز حاصل بزنجو کی جانب سے پیش کردہ عدم اعتماد تحریک پڑھ کر سنائی، اپوزیشن کے 64 اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جس کے بعد خفیہ رائے شماری کا اعلان کیا گیا۔

سینیٹ اجلاس میں شرکت کرنے والے 100 اراکین نے حق رائے دہی استعمال کیا البتہ اپوزیشن کے حق میں صرف پچاس ووٹ آئے جبکہ 6 مسترد اور 14 اراکین نے حکومتی نمائندے کو ووٹ دیے، یوں صادق سنجرانی کے خلاف قرارداد ناکام ہوگئی اور پھر ڈپٹی چیئرمین کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد کی کہانی ختم ہوئی۔

انتخابی نتائج کے بعد خوب گرما گرمی ہوئی، پی پی کے سینیٹرز نے استعفیٰ دیا جبکہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار میز حاصل بزنجو نے صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ ’’یہ چودہ لوگ جنرل فیض کے لوگ ہیں، جنرل فیض جو آئی ایس آئی کے سربراہ ہیں‘‘۔

https://twitter.com/ZarayeNews/status/1156955207441485827?s=20

اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ تھا کہ انہیں 64 ووٹ ملیں گے جبکہ حکومتی شخصیات اور تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اس بات کا اعلان کرچکے تھے کہ تحریک ناکام ہوجائے گی۔

اب سینیٹ چیئرمین کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار حاصل بزنجو کے متنازع بیان پر پاک فوج کا ردِ عمل سامنے آگیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ ’قومی ادارے کے سربراہ کے بارے میں سینیٹر میر حاصل بزنجو کا بیان سراسر بے بنیاد ہے‘۔

اپنے پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیاسی مفادات کے لیے پورے جمہوری عمل کو بدنام کرنے کا رجحان جمہوریت کی خدمت نہیں‘۔

 

دوسری جانب پریزائیڈنگ افسر بیرسٹر سیف کے حوالے سے بھی چند باتیں سامنے آئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ اپوزیشن کی حمایت میں 54 ووٹ آئے تھے اور صادق سنجرانی کے حق میں 46 ووٹ پڑے، البتہ بیرسٹر سیف نے اس کی بھی صفائی پیش کردی جس کی ویڈیو درج ذیل ہے۔

https://twitter.com/ZarayeNews/status/1156983994103271426?s=20

بعد ازاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر میر حاصل بزنجو کے خلاف ہیش ٹیگ چلا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سینیٹر پر غداری کی دفعہ آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔