یہ مناظر پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ٹیچرز ٹریننگ ادارے ” قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ” میں جاری ایک تربیتی سیشن کے ہیں ۔ معماران قوم کو کس قسم کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔
اس طرح کی کئی اور ویڈیوز سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسکول ایجوکیشن کے ٹریننگ پروگرامز برٹش کونسل کی مدد سے جاری ہیں اور اس کے لئے ماسٹر ٹرینرز کو برطانوی ماہرین نے تربیت دی۔
اس ادارے میں عموما سینیئر ٹیچرز کو ٹریننگ دی جاتی ہے جو اپنے علاقوں میں جا کر باقی ٹیچرز کو ٹرینڈ کرتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آنیوالے دنوں میں سرکاری سکولز کا ماحول کا طرح تبدیل کیا جا رہا ہے۔
صوبے بھر میں گرلز اور بوائز سکولز الگ الگ ہیں دونوں کا ماحول مسائل بچوں سے ڈیل کرنے کا طریقہ بھی الگ الگ ۔ لیکن اتنی بڑی تعداد میں ٹیچرز کو ٹریننگ مخلوط ماحول میں فراہم کی جا رہی ہے اور اوپر سے رقص جیسی حرکتوں اور بھنگڑے کا ماحول ہے۔
بظاہر یہ تفریح سی لگتی ہے اور تمام معزز اساتذہ کرام نے بھی خوب انجوائے ہی کیا ہو گا ۔ لیکن ایسے سیشن یقینا ذہن سازی میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں ۔ اگر اس قسم کی مشقوں کی کوئی اہمیت نہ ہو تو کبھی بھی برٹش کونسل اس پر لاکھوں پاؤنڈ ضائع نہ کرے ۔ استاد کی ذہن سازی اور یوں تھرکتے ۔ بھنگڑے میں مست جسموں سے پھر اگلے مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں اور بہت جلد آپ یہ مناظر اپنے گلی محلوں میں بھی دیکھیں گے ۔ سکولز میں برطانوی سرمایہ کاری اپنا اثر دیکھا رہی ہے ۔ جھومتے رہیں اور مست رہیں ۔ جلد ہی ایک بدلی ہوئی نسل تیار ملے گی ۔
