Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
انجیکشن لگوانے اور شوگر چیک کرنے سے روزہ نہیں‌ ٹوٹتا

انجیکشن لگوانے اور شوگر چیک کرنے سے روزہ نہیں‌ ٹوٹتا

ماہرین ذیابیطس نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں شوگر کے مریض ادویات اور ڈاکٹر سے مشورے کے بعد انسولین کی ڈوز کے اوقات کار کم کروالیں۔

رمضان اینڈ حج اسٹڈی گروپ کے رہز اہتمام بقائی یونیورسٹی ڈائیبٹالوجی اینڈ انڈرکرائنالوجی سے وابستہ ماہرین اور مفیان نے کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈھائی سے تین کروڑ افرادزیابطیس کے مرض میں مبتلا ہیں، جس میں سے اکثریت کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ رمضان کے سارے مہینے مین روزے رکھیں، ایسے تمام روزے دار ماہ مقدس شروع ہونے سے قبل اپنے ڈاکٹروں سے مل کر دواؤں اور انسولین کی ڈوز کے اوقات کار مختص کروا لیں۔

مقررین نے بتایا کہ اگر ذیابیطیس کے مریض غذائی معلومات اور ورزش کرنے کے اوقات بنا لیں تو وہ اس مقدس مہینے میں بغیر کسی پیچیدگی کے روزے رکھ سکتے ہیں۔

اس کانفرنس میں بتایا گیا کہ رمضان اور حج اسٹڈی گروپ نے گزشتہ دس برس کی تحقیقات کے نتیجے مرتب کر کے اُن کی روشنی میں روزے داروں کے لیے سفارشات مرتب کی ہیں اگر اُن پر عمل پیرو ہوں تو 90 فیصد سے زیادہ مریض بغیر کسی مشکل کے رمضان کے روزے آسانی کے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔

مقررین نے بتایا کہ رمضان کا وہ واحد مہینے ہے جس میں وزن کم کیا جاسکتا ہے اور موٹاپے کے شکار افراد کو یہی کوشش کرنا چاہیے کہ وہ ناقص اشیاء استعمال کر کے صحت برباد نہ کریں بلکہ اپنا وزن کم کرلیں۔

رمضان اینڈ حج اسٹڈی گروپ کے سربراہ پروفیسر یعقوب احمدانی کا کہنا تھا کہ زیابطیس کے مریضوں کو رمضان شروع ہونے سے کم از کم دو ماہ پہلے اپنے معالج سے رجوع کرلینا چاہیے اور اپنی ادویات، خوراک، معمولات زندگی کو ایڈ جسٹ کرانا چاہیے لیکن ابھی بھی رمضان شروع ہونے میں 8سے 10دن باقی ہیں،زیابطیس کے ایسے مریضوں کو جو روزے رکھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے اپنے معالج سے مشورہ کرنا بہت ضروری ہے۔

رمضان میں دواؤں کے اوقات کار بدل دیے جاتے ہیں، صبح لی جانے والی رمضان میں افطار کے بعد لی جاتی ہے اور رات کو لی جانے والی دوا سحری میں لی جاتی ہے،دواؤں کی مقدار میں کمی کر لی جاتی ہے تاکہ مریض بغیر کسی پیچیدگی کے روزہ رکھ سکے۔

مفتیان کرام نے شرکاء کو بتایا کہ شرعی تعلیمات کی روشنی میں شوگر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، مریض دن میں دو سے تین بار اپنی شوگر چیک کرسکتے ہیں مگر بدقسمتی سے 66 فیصد مریضوں کو دن میں ایک ہی بار خیال آتا ہے۔

اسی طرح مفتیانِ کرام نے بتایا کہ اگر شوگر کی مقدار خون میں 70 ملی گرام سے کم رہ جائے تو روزے دار کو چاہیے اپنی طبیعت کا خیال کرے اور کچھ کھا پی کر فوری روزہ توڑ لے۔

جامعہ بنوریہ سے وابستہ مفتی سعد نے شرعی مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید بتایا کہ بیماری، سفر، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو شریعت نے روزہ نہ رکھنے کی رعیات دی، انہیں قرآن میں حکم دیا گیا کہ گنتی دوسرے ایام میں پوری کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کان، آنکھ میں دوا ڈالنے، انجکشن، ڈرپ یا انسولین لگانے سے بھی روزے پر کوئی فرق نہیں پڑتا اس کے علاوہ شوگر کا مریض اپنی شوگر چیک کرسکتا ہے۔