Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6121
وزراتیں، گورنری،اہم تقرریاں ،ایم کیوایم کو ملنے والے فوائد کی تفصیلات ! |

وزراتیں، گورنری،اہم تقرریاں ،ایم کیوایم کو ملنے والے فوائد کی تفصیلات !

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کی اتحادی حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی کے بعد پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت سے متحدہ کو ملنے والے فوائد کی تفصیلات شیئر کردیں۔

ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم پاکستان کے رویئے کی شکایت وفاق اور مشترکہ دوستوں کو کردی۔ ساتھ ہی ایم کیو ایم کو اتحادی بننے کے بعد ملنے والے فوائد کی تفصیلات بھی شیئر کردیں۔

جن کے مطابق صوبائی بجٹ میں ایم کیو ایم کی اسکیمز شامل کی گئیں۔ امین الحق اور فیصل سبزواری وفاقی وزیر بنائے گئے۔

گورنر سندھ کو ایم کیو ایم کے کہنے پر لگایا گیا۔ مرتضیٰ وہاب کا استعفیٰ ایم کیو ایم کے کہنے پر لیا گیا۔ کراچی کا ایڈمنسٹریٹر ایم کیو ایم کی سفارش پر لگایا گیا۔ تین اضلاع میں ایڈمنسٹریٹر ایم کیو ایم کے لگائے گئے۔

ایم کیو ایم کارکنان کی واپسی میں صوبائی حکومت نے کردار ادا کیا۔ کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کی سفارش پر افسران تعینات کئے گئے۔

رابطہ کمیٹی کے ارکان محمد شریف، شکیل احمد کورنگی اور شرقی کے ایڈمنسٹریٹر لگائے گئے۔ پیپلز پارٹی کی سفارش پر ایم کیو ایم کے چھ ارکان کو وفاق میں اہم عہدے دیئے گئے۔

ایم کیو ایم کے ارکان قومی اسمبلی ابوبکر، کشور زہرہ قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین ہیں۔ ایم کیو ایم ارکان قومی اسمبلی اُسامہ قادری، صابر قائم خانی پارلیمانی سیکریٹری ہیں۔

ایم کیو ایم کی سفارش پر صادق افتخار کو وزیر اعظم کا معاون خصوصی بنایا گیا۔ پبلک سروس کمیشن میں ایم پی اے جاوید حنیف نے اپنے بھائی کو ممبر بنوایا۔ عارف حنیف اور عبدالمالک غوری ایم کیو ایم کی سفارش پر ممبر بنائے گئے۔ اتحاد کے بعد کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں ایم کیو ایم رہنماؤں کے رشتے دار اہم پوسٹنگ پر رہے۔