کراچی: کاؤنٹرٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں 6افراد کو گرفتار کرلیا جن پر ایران سے تربیت لینے کا الزام ہے، ملزمان نے مولانا اورنگزیب فاروقی پر بھی قاتلانہ حملے کا اعتراف کیا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے مذہبی اور فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا تھا جس کے بعد راجہ عمر خطاب نے ایک ٹیم تشکیل دی جس نے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے ملزمان کو گرفتار کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ شہر میں ہونے والی حالیہ فرقہ وارانہ وارداتوں میں پرانے دہشت گردوں کا ہاتھ تھا، گرفتار ملزمان میں سے 3افراد قتل کی ورادات کے بعد قریبی اسلامی ملک (ایران) فرار ہوجاتے تھے۔ گرفتار ملزمان نے اب تک 50سے زائد لوگوں کو قتل کیا، پڑوسی ملک کے سامنے اس معاملے کر رکھا تاکہ ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عبداللہ شیخ کا کہنا تھا کہ مختلف کارروائیوں میں اب تک 6 ٹارگٹ کلر گرفتار ہو چکے ہیں، ان لوگوں نے اہل سنت والجماعت کے رہنما مولانا اورنگزیب فاروقی پر قاتلانہ حملہ کیا علاوہ ازیں 50 افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے ملزمان میں سے تین کا نام ریڈ بک میں بھی شامل ہیں، محمد حیدر، سید مہتاب حسین نقوی،گل اکبر عرف عبداللہ کے نام ریڈ بک میں شامل ہیں ، ملزمان کے دیگر ساتھیوں آصف رضا عرف خالد اور کامران عرف پٹھان شامل ہیں، گرفتار ملزمان نے 2003 سے 2019 تک مختلف کاروائیوں میں حصہ لیا۔
سی ڈی حکام نے انکشاف کیا کہ ٹارگٹ کلنگ کی ٹیم میں پولیس ہیڈ کانسٹیبل سید حیدر عباس بھی شامل تھا جو گارڈن ہیڈ کوارٹر میں بطور تعینات رہا، ٹارگٹ کلرز کو 40 ہزار اور ٹارگٹ کی ریکی کرنے والوں کو 20ہزار ماہانہ تنخواہ دی جاتی تھی، ملزمان کو مالی و معاشی معاونت پڑوسی ملک سے فراہم کی جاتی ہے، ملزمان سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیاگیا۔
کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد میں گروہ کے شوٹرز شامل ہیں، جنہوں نے 31 وارداتیں کیں اور 50 افراد کو نشانہ بنایا، یہ گروہ 2003 سے شہر میں وارداتیں کررہا تھا، ملزموں سے تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
