معروف سماجی رہنما اور ٹی ٹو ایف کی ڈائریکٹر سبین محمود کو بچھڑے پانچ سال کا عرصہ بیت گیا مگر اُن کی کاوشوں کو کوئی قدغن نہ لگاسکا اور مرحومہ کا مشن جاری ہے۔
کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 2 میں رات 9 بجے سبین محمود اپنی والدہ کے ہمراہ رات دفتر سے گھر کے لیے نکلیں تو انہیں راستے گھات لگائے نامعلوم افراد نے باقاعدہ حکمت عملی کے ساتھ گولیاں مار کر قتل کیا۔ انہیں 24 اپریل 2015 کو شہر قائد میں نشانہ بنایا گیا۔
سبین محمود کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے راستے میں ہی دم توڑ گئیں تھیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے چار گولیاں لگیں جن میں سے سینے میں دو ، گردن اور ایک ایک چہرے پر لگی، فائرنگ بہت قریب سے کی گئی تھی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ گردن میں لگنے والی گولی بدقسمت ثابت ہوئی اور وہی اُن کی موت کا سبب بھی بنی، سبین محمود کے قتل کا مقدمہ2 نامعلوم ملزمان کے خلاف والدہ منہاس کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، مقدمہ نمبر214/15قتل اقدام قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں۔ آئی بی اے میں زیر تعلیم طالب علم سعد عزیز نے تفتیش کے دوران سبین محمود کے قتل کا اعتراف کیا۔
آج اُن کی پانچویں برسی کے موقع پر سوشل میڈیا صارفین سبین محمود کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کررہے ہیں اور #SabeenMahmud پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ کررہا ہے۔
miss you #SabeenMahmud 🙁
— Laiq (@laiqqureshi) April 24, 2019
