دارالصحت اسپتال سیل ہونے پر ایم کیو ایم پاکستان کو اظہارِ تشویش
کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے دارالصحت اسپتال کو سیل کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے مسائل کا حل نہیں نکالا جاسکتا۔
ترجمان ایم کیو ایم کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ایم کیو ایم کو دارالصحت اسپتال کے سیل ہونے پر سخت تشویش ہے۔ ایک بیان میں ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپتال کا انتظام بہتر اور تربیت یافتہ عملے کی موجودگی کو یقینی بنا کر معصوم نشوہ جیسے انتہائی افسوسناک واقعہ سے بچا جاسکتا ہے، اسپتال کو سیل کرنے سے مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔
ترجمان ایم کیو ایم نے کہا کہ معصوم نشوہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر متاثرہ خاندان سے پہلے روز سے مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ عصمت جونیجو جیسی معصوم بچی کی عصمت دری ایک لرزہ خیز واقعہ ہے جو قابلِ مذمت ہونے کے ساتھ ساتھ گھناؤنا بھی ہے۔
ایم کیو ایم کے ترجمان نے کہا کہ عصمت جونیجو کیس ایک سرکاری ہسپتال میں ہوا لیکن ابھی تک سندھ حکومت نے کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا گیا، سرکاری ونجی اسپتالوں میں جانچ پڑتال اور علاج کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے حکومت اپنا کردار ادا کرے۔
ہیلتھ کیئر کمیشن کو ایک موثر اور سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ادارہ بنانے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی ترامیم پر کام کر رہے ہیں لیکن بنیادی ذمہ داری حکومت کی ہے جو سیاسی بنیادوں پر اٹھائے گئے نمائشی اقدامات میں مصروف ہے، اسپتالوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے بعد ان کا معیار بہتر بنانے کے بجائے سیل کرنے کا سلسلہ چل پڑا تو عوام کا اللہ ہی حافظ ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ دارالصحت اسپتال کے قرب وجوار میں رہنے والے سینکڑوں مریض روزانہ علاج کرانے آتے ہیں حکومت نے اسے سیل کرتے ہوئے ان مریضوں کے لئے کوئی متبادل انتظام کیا۔
