Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ایم کیو ایم جلسہ ، شرکت کریں اگلے روز سارے مسائل حل .... تحریر عمیر دبیر | زرائع نیوز

ایم کیو ایم جلسہ ، شرکت کریں اگلے روز سارے مسائل حل …. تحریر عمیر دبیر

ایم کیو ایم پاکستان 27 اپریل کو باغ جناح کراچی میں جلسہ عام کرنے جارہی ہے، کنونیئر متحدہ خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا کہ یہ جلسہ کراچی والوں کے  تمام مسائل کو حل کردے گا۔

خالد مقبول صدیقی کے ساتھ سینئر ڈپٹی کنونیئر عامر خان بھی دعویٰ کرتے نظر آئے کہ جلسہ ایک راہ کا تعین کرے گا۔ ایم کیو ایم جلسہ دراصل سندھ حکومت کے خلاف کرنے جارہی ہے، شہر میں جاری تیاریاں اور گہما گہمی بتاتی ہے کہ ایم کیو ایم نے شاندار کم بیک کیا کیونکہ 22 اگست کے بعد اس طرح سے تیاریاں نظر نہیں آئیں۔

شہر کے کھمبوں پر جھنڈے لگائے جارہے ہیں، تقریباً تمام ہی شاہراؤں پر بڑے بڑے پینا فلیکس آویزاں کیے گئے ، متحدہ کے ہر ڈسٹرکٹ اور زون نے کیمپس لگائے جہاں پارٹی ترانے بجائے جارہے ہیں، عوام کو شرکت پر قائل کرنے کے لیے دروازہ بہ دروازہ مہم بھی جاری ہے جبکہ رابطہ کمیٹی سمیت دیگر عہدیدار بھی کافی متحرک اور سرگرم ہیں۔

ایم کیو ایم کا جلسہ کامیاب ہوگا، گوکہ اس میں شرکا کی تعداد ماضی کی طرح نہیں ہوگی مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ’لوگ ہوں گے‘۔

اہل کراچی کو ایم کیو ایم پاکستان یہ پیغام دینے کی کوشش کررہی ہے کہ ’’کامیاب جلسے کے فوری بعد شہر میں پانی کی قلت ختم ہوجائے گی، میئر کراچی آئندہ کبھی عوامی کاموں کے لیے اختیارات کا رونا روتے نظر نہیں آئیں گے، کراچی کے لاپتہ بالخصوص بانی ایم کیو ایم سے محبت رکھنے والے کارکنان واپس گھروں کو آجائیں گے، شہر کی تمام سڑکیں بلدیاتی حکومت اچھی کردے گی، کچرا وقت پر اٹھے گا، گلی محلوں کی باقاعدہ صفائی ہوگی۔ نادرا کے مسائل حل ہوں گے، تجاوزات کے خلاف ہونے والے آپریشن کے متاثرہ تاجروں کو دکانیں دی جائیں گی، مردم شماری میں شمار نہ ہونے والے شہریوں کو اگلے ہی روز گن لیا جائے گا، کوٹا سسٹم کے خلاف قرارداد ایوانِ زیریں اور بالا سے متفقہ منظور ہوگی،  نوجوانوں کو ملازمتیں ملیں گی، نشوہ کے والد کو انصاف ملے گا، گو کراچی کے شہریوں کو جن جن بھی مسائل کا سامنا ہے وہ کامیاب جلسے کے بعد ختم ہوجائیں گے‘‘۔  اللہ کرے۔۔۔

اگر یہ حقیقت ہے تو بہت اچھی بات ہے مگر ماضی کے اوراق کو پلٹیں تو صورتحال بالکل مختلف ہے، لیاقت آباد جسے ایم کیو ایم کا گڑھ سمجھا جاتا تھا جہاں سے خود خالد مقبول صدیقی منتخب ہوئے وہاں کی ابتر صورتحال مکینوں سے جاکر پوچھی جاسکتی ہے۔ عام انتخابات میں بھی کچھ اسی طرح کے اعلانات اور تاثر ایم کیو ایم نے دینے کی کوشش کی تھی مگر صورتحال سامنے ہے۔

خیر یہ نیا پاکستان ہے عین ممکن ہے کوئی معجزہ ہوجائے، ایم کیو ایم کو اپنی چھینی ہوئی سیٹیں واپس مل جائیں، شہریوں کے ماضی میں جیسے مسائل حل ہوتے تھے یا وہ امید کے ساتھ ایم کیو ایم کے پاس جاتے تھے وقت ویسا ہی ہوجائے مگر ووٹر یا عوام کے ذہن میں جو ایک سوال ہے اُسے کیسے نکالا جاسکتا ہے۔

عوام یا ووٹر حالات کے جبر کی وجہ سے خاموش ہیں مگر وہ آج بھی آپس میں بات کرتے ہیں اور بات کیا کرتے ہیں یہ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت بھی بخوبی جانتی ہے۔ ایم کیو ایم اگر عوامی سوالات کے جواب دے دے تو یقین کریں عوام کا اعتماد اُن پر ویسے ہی بحال ہوجائے گا جیسا ماضی میں تھا۔

عوامی سوالات یہ ہیں کہ جب آپ نے برسوں پرانا ساتھ اور قرآن پر اٹھائے حلف کا پاس نہیں رکھا تو پھر ہمیں کیسے انصاف اور حقوق دلا سکتے ہیں؟ آپ اُن لوگوں کو ہمارے گھروں پر کیوں بھیجتے ہیں جنہوں نے ماضی میں ہمارے ہی نوجوانوں کو اُن کے گھروں کے باہر قتل کیا اور فخر سے بھی رہے۔

ورنہ عوام کو یاد ہے کہ بلدیاتی انتخابات قریب ہیں، اور جیسے ہی وہ ختم ہوں گے آپ عام انتخابات کے بعد کی طرح انہیں بھول جائیں گے، اپنے علاقے سے منتخب ہونے کے بعد وہاں جھانکنا تک گوارا نہیں کریں گے جیسے لیاقت آباد کی صورتحال ہے کہ وہاں کے رکن صوبائی اسمبلی کنور نوید جمیل ڈیفنس اور خالد مقبول صدیقی عزیز آباد میں رہائش پذیر ہیں۔