اسلام آباد: پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس کا اسمبلی فلور پر جواب دینے کی کوشش کی مگر اسپیکر نے اُن کا مائیک بند کردیا جس پر علی وزیر اور انہوں نے شدید احتجاج کیا۔
محسن داوڑ نے ایوان میں پیش کش کی کہ ہم غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے ہر فورم پر پیش ہونے کو تیار ہیں مگر الزامات لگانے والوں کو بھی جواب اور اپنا ٹرائل کروانا ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب ہم پر الزامات عائد کیے گئے تو ایک صحافی نے پی ٹی ایم کے نمائندے کو بلا کر موقف لینے کا کہا جس پر انہیں مدعو نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔
رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ جو باتیں آج ہوئیں یہی باتیں عمران خان جمعے کے روز وزیرستان جلسے میں کرچکے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کیا کچھ ہے۔ ہم نے جواب دینے کے لیے پریس کانفرنس طلب کی تو ہمیں وہاں مؤقف پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
محسن داوڑ نے بہت سارے الزامات کا درجہ بدرجہ جواب دینے کی کوشش کی جس کی ویڈیو انہوں نے شیئر کی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اُن کی اسمبلی تقریر کو کسی میڈیا نے کوریج نہیں دی البتہ ہم نیوز نے اسے ضرور شائع کیا۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع شمالی و جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر نے فوجی ترجمان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں پریس کانفرنس کی ہے جسے کسی ٹی وی چینل سے عوام تک نہیں پہنچایا ۔
پاکستانی پارلیمنٹ کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو میں محسن داوڑ نے کہا کہ ”ہم پر جو الزامات لگائے گئے ہیں ان پر ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے اگر ثابت ہو جائیں تو ہمیں وہ سزا دی جائے جس کے مستحق غدار ہوتے ہیں ۔“
