اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں کام کرنے والی فلاحی تنظیم نے عورت مارچ کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر مبینہ غیر اسلامی اور غیر اخلاقی اجتماع کیا گیا، درخواست میں وفاق پیمرا ، نادرا اور اسلامی نظریاتی کونسل کو فریق بنایا گیا۔
اسلام آباد میں کام کرنے والی ایک فلاحی تنظیم کی جانب سے ایڈوکیٹ عبدالرحمن ناصر نےدائر کی، جس میں بتایا گیا کہ خواتین کے عالمی دن کی پر چند خواتین کی جانب سے ایک قابل اعتراض مارچ کا انعقاد کیا گیا، اس قسم کے مارچ اسلام آباد، لاہور ، کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی ہوئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ واک کے شرکاء نے اسلامی روایات اور اقتدار کی تذلیل کی جس سے عوامی جذبات مجروح ہوئے ، مارچ کے شرکاء نے انتہائی غیر اخلاقی اور غیر اسلامی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، پلے کارڈز پر فری سیکس اور دیگر غیر اخلاقی و غیر اسلامی شعار کی ترویج کی گئی تھی ۔ خواتین کی جانب سے متنازع مارچ کا انعقاد اور پلے کارڈز کی تشریح غیر اسلامی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے خلاف ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ آئین کے تحت آزادی اظہار رائے قانون اور اخلاقی حدود و قیود کی پابند ہے، عدالت اس قسم کی غیر اسلامی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرے، درخواست گزاردفع مارچ میں شریک خواتین کے ایڈرس معلوم کرکے ان کے خلاف قانونی کاروائی کرے۔
