Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
میئر کراچی کا ماڈل قبرستان بنانے کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

میئر کراچی کا ماڈل قبرستان بنانے کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

دوسال قبل شاہ عبدالطیف بھٹائی  قبرستان سیکٹر 16 اے سرجانی ٹان نزد نادرن بائی پاس.میں 10 ایکڑ زمین پر15 ہزار قبروں کی گنجائش والا قبرستان تاحال ست روی کاشکار۔۔۔ مئیر کراچی وسیم اختر نے کراچی کے شہریوں کو دو سال قبل ماڈل قبرستان تعمیر کرنے کا عندیہ دیاتھا ۔۔۔۔ سنگ بنیاد رکھنے کے بعد اب تک مئیر کراچی وسیم اختر نے ماڈل قبرستان کا رخ بھی نہیں کیا ہے کہ کام کی رفتار کیا ہے ؟

جہاں کراچی شہر ،شہری سہولیات کی فراہمی میں پیچھے چلا گیا ہے وہیں کسی عزیز کے مرنے کے بعد لواحقین قبرستانوں کی خاک چھانتے دکھائی دیتے ہیں کراچی میں موجود قبرستان قبر در قبر کے بعد بھر چکے ہیں اور اسوقت قبرستانوں کا نظام گورکن سنبھالے ہوئے ہیں جو من مانے پیسے وصول کرنے سے باز نہیں آتے البتہ اتنا ضرور ہے کہ گورکن ایسی جگہوں پر قبریں فراہم کر دیتے ہیں جن قبروں پر عرصے سے آمدورفت کا سلسلہ موقوف ہو چکا ہوتا ہے ،مئیر کراچی وسیم اختر نے کراچی کے شہریوں کو دو سال قبل ماڈل قبرستان تعمیر کرنے کا عندیہ دیا شاہ عبدالطیف بھٹائی ماڈل قبرستان سیکٹر 16 اے سرجانی ٹان نزد نادرن بائی پاس ،جس کا 2018 ء میں سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا تھا مگر تاحال اس کی تکمیل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔

مئیر کراچی نے کہا تھا کہ یہ ماڈل قبرستان جون 2019 ء میں مکمل کر لیا جائے گا 10 ایکڑ زمین پر15 ہزار قبروں کی گنجائش والا قبرستان تاحال منتظر ہے کہ اس کو تکمیل کے مراحل سے گزار کر مفاد عامہ کا کام کر جائیں۔

https://zaraye.com/mehboob-ahmed-chishti/

ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ عبدالطیف بھٹائی قبرستان کا کام انتہائی سست رفتاری کا شکار ہے اور ایسا ممکن نہیں دکھائی دے رہا ہے کہ یہ جون تک مکمل ہو جائے جبکہ سنگ بنیاد رکھنے کے بعد اب تک مئیر کراچی وسیم اختر نے ماڈل قبرستان کا رخ بھی نہیں کیا ہے کہ کام کی رفتار کیا ہے اگر دس ایکڑ زمین جس پر قبرستان بنانا مقصود ہے چھ ماہ کے عرصے میں مکمل ہوجانا چاہیئے تھا کیونکہ دیگر ترقیاتی پروجیکٹس کی نسبت قبرستان کی تعمیر میں افرادی ،مشینی قوت اور ضروری کاموں کی تنصیب میں زیادہ جھنجھٹ نہیں ہوتا اس کے باوجود قبرستان کی تعمیر میں سست روی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے محکمہ قبرستان کے ڈائریکٹر سے مئیر کراچی تفصیلات معلوم کریں تو ماڈل قبرستان میں کئے جانے والے کاموں کی تفصیلات سامنے آسکیں گی۔

شہریوں کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ جس طرح شہر کی آبادی بڑھنے کے ساتھ مختلف امراض کی وجہ سے اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے ایک ماڈل قبرستان ایک مخصوص علاقے کیلئے کارآمد ہوسکتا ہے اور تاحال اس کی تکمیل بھی ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے شہر کے دیگر قبرستانوں کی حالت زار سامنے ہونے پر بھی کوئی ورکنگ سامنے نہیں آرہی ہے۔

شہرقائد کا النور قبرستان بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ڈسرکٹ مئیونسپل کارپوریشن اور منتخب نمائندوں کے خواب غفلت میں مبتلا ہونے کیوجہ سے انتہائی بدحالی کا شکار ہے ڈسرکٹ انڈسٹریل النور قبرستان بلاک 22کی حالت زار نے انتظامیہ کی بدترین نااہلی کاپردہ چاک کردیا ہے شب برات میں انتہائی کم ناکافی روشنی نے شہریوں کو پریشان کئیے رکھا اور شب برات کی مبارک رات پر بھی النور قبرستان میں اندھیروں کاراج رہاٹوٹی سڑکیں ،کھلے مین ہولز،کیوجہ سے آنے والے شہریوں حادثات سے بال بال بچتے رہے آنے والے شہریوں کواپنے پیاروں کی قبروں پر آنے کے لیئے شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرناپڑا ،النور قبرستان کے اطراف میں قائم دیواریں طویل عرصے سے گر چکی ہیں جسکی وجہ سے کتوں نے قبروں کو شدید نقصان پہنچانا شروع کردیا ہے اپنے پیاروں کی قبروں پر آنے شہریوں پر قبرستان میں پہلے سے موجود کتے حملہ کردیتے ہیں۔

https://zaraye.com/karachi-parks-renovation-corruption/

زائرین نے معتدد بار ڈسرکٹ سنٹرل ،بلدیہ عظمیٰ کراچی کے متعلقہ افسران کو درخواستیں بھی دیں لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوسکی، ارباب اختیار نے اس تمام صورتحال پر تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا ہے ڈی ایم سی سینٹرل چئیرمین ریحان ہاشمی ،مئیرکراچی وسیم اختر النور قبرستان کی اس تمام صورتحال کا فوری نوٹس لیکر اقدامات کریں تاکہ ووٹ دیکر آپ پر اعتماد کرنے والے شہریوں کو اپنے اس عمل پر افسوس نہیں ہو۔

اب ضرورت ہے کہ قبرستانوں کے قیام کیلئے علاقائی اعتبار سے زمینیں مختص کر کے قبرستان بنائے جائیں کچھ قدیم قبرستانوں میں قبریں زمین بوس ہوکر آثار بھی کھو چکی ہیں اگر ایسی زمینوں کو ہموار کر دیا جائے تو مزید قبروں کی گنجائش نکل سکتی ہے جب قبروں کے آثار ہی ختم ہوگئے ہیں تو انہیں ہموار کرنے میں کسی قسم کا عوامی احتجاج سامنے آنا مشکل ہے بہتر ہے کہ پہلے مئیر کراچی اپنے وعدے کے مطابق سرجانی ٹان کے ماڈل قبرستان کی تعمیر کو مکمل کروائیں۔

https://zaraye.com/mehboob-ahmed-chisti-4/