لاہور کی سیشن عدالت میں گلوکارعلی ظفر کی جانب سے میشاشفیع کےخلاف ہتک عزت کے دعوی پر سماعت ہوئی، ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں ادکار علی ظفر کی جانب سے ماڈل کنزہ منیر کی شہادت قلمبند کی گئی۔
کنزہ منیر نے بیان دیتے ہوئے کہا میں نجی اسٹوڈیو میں موجود تھی جہاں میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا، اسٹوڈیو میں کنسرٹ کی ریہرسل چل رہی تھی، 10 سے 11 لوگ ریہرسل میں موجود تھے، 45 منٹ تک ریہرسل اسٹوڈیو میں جاری رہی، میشا شفیع جب اسٹوڈیو پہچی تو علی ظفر کو گلے سے لگا کر سلام کیا، ریہرسل کا عمل مکمل ہونے کے بعد میشا شفیع نے علی ظفر کو بائے بائے بھی اس طرح کہا۔ کنزہ منیر نے کہا ریہرسل کے درمیان ویڈیو بھی بن رہی تھی، دونوں گانے کے دوران 4 سے 5 فٹ دور کھڑے تھے میشا شفیع کے الزامات کا اچھی طرح علم ہے وہ جھوٹ ہیں۔
درخواست گزار علی ظفر کا کہنا تھا کہ میشا شفیع نے جنسی ہراساں کرنے سے متعلق بے بنیاد الزامات عائد کیے لہٰذا عدالت میشا شفیع کو سو کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم جاری کرے۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید گواہان کو شہادت کے لیے طلب کرتے ہوئے سماعت 18 مئی تک ملتوی کردی۔
میشا شفیع نے جنسی ہراساں کرنے سے متعلق بے بنیاد الزامات عائد کئے، عینی شاہد
