Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
پشاور: ’’میرا وزیر صحت دہشت گرد ہے‘‘ | زرائع نیوز

پشاور: ’’میرا وزیر صحت دہشت گرد ہے‘‘

پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال( کے ٹی ایچ) میں وزیر صحت خیبرپختونخوا ہشام انعام اللہ خان اور اُن کے گارڈ نے دو روز قبل ڈاکٹر ضیاء الدین کو ڈیوٹی اوقات میں تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد سے ڈاکٹر کا احتجاج جاری ہے۔

واقعہ کچھ یوں ہوا کہ دو روز قبل خیبر ٹیچنگ اسپتال میں تعینات وزیراعظم عمران خان کے کزن ڈاکٹر نوشیروان برکی اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالدین کے درمیان تکرار ہوئی جس میں وزیرصحت انعام اللہ بھی کود گئے اور انہوں نے اسپتال پہنچ کر اپنے گارڈ کے ہمراہ ڈاکٹر ضیاء کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ینگ ڈاکٹرز نے وزیر صحت کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے ایک استاد پر حملہ کیا۔

واقعے کے خلاف خیبرپختونخواہ کے تمام اسپتالوں میں دو روز سے ہڑتال جاری ہے، تمام سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز بند ہیں جس کی وجہ سے مریض دربدر بھڑک رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیر صحت ہشام انعام اللہ کا کہنا ہےکہ ڈاکٹر ضیاءالدین نے ڈاکٹر نوشیروان برکی پر انڈوں سے حملہ کیا اور جب وہ اسپتال پہنچے تو ان پر بھی حملہ کیا گیا جس محافظوں نے مجھے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ڈاکٹرز اصلاحات کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں، ڈاکٹرز نے حد پار کی ہے اب ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

پولیس نے تشدد کا نشانہ بننے والے ڈاکٹر ضیاء الدین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا البتہ ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا، دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے وزیرصحت کے خلاف بھی مقدمے کی درخواست دی گئی۔ معاملہ جب حد سے بڑھا تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا۔ خیبر ٹیچنگ اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کے بعد کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ زخمی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الدین اسٹریچر پر لیٹے نظر آرہے ہیں اور  ڈاکٹرز ان کو طبی امداد فراہم کررہے ہیں۔

اس ضمن میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بھی احتجاج کیا گیا، صارفین نے MyHealthMinisterIsTerrorist# ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کیا۔