وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان نے گزشتہ ہفتے چیک پوسٹ پر حملے کے متاثرہ افراد کے لیے امدادی پیکج دینے کا اعلان کردیا، جس کے مطابق جاں بحق افراد کے لواحقین کو 25 لاکھ اور زخمیوں کو 10، 10 لاکھ روپے معاوضہ حکومت خود ادا کرے گی۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو 25 لاکھ روپے امدادی پیکج دیا جائے گا جبکہ زخمیوں کو 10، 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا اور اُن کا علاج و معالجہ بھی کرایا جائے گا، اُن کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر پختونوں کو جنگ میں دھکیلنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں مگر اُن کی یہ کوشش کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہو گی کیونکہ اب پختونوں کے نام پر سیاست کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
چیک پوسٹ جھڑپ: شرپسندں کی فائرنگ سے مظاہرین زخمی اور اراکین اسمبلی کی گاڑیاں متاثر ہوئیں
محمود خان کا کہنا تھا کہ عوام، پاک فوج اور اداروں کی قربانیوں کی بدولت امن قائم ہوا۔ امن برقرار رکھنے کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ تمام اضلاع کے مسائل حل کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر دن رات محنت جاری ہے،10 ماہ میں قبائلی اضلاع کے کئی مسائل حل کر چکے ہیں اور مستقبل میں بھی کیے جائیں گے۔
