کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر اور رکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ موجودہ بلدیاتی نظام آئین سے براہ راست متصادم ہے، اگر کراچی کے دو میئرز ہوئے تو سندھ کے بھی دو وزیراعلیٰ ہوں گے۔
رابطہ کمیٹی اور رہنماؤں کے ہمراہ عارضی مرکز بہادرآباد پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام کو معاشی، سیاسی اور مالیاتی طور پر خود مختار ہونا چاہیے، سندھ کا موجودہ نظام آئین کے آرٹیکل 140 اے کے خلاف اور اُس کے متصادم ہے۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ اب یہ نہیں ہوسکتا کہ سندھ کی حکومت شہری علاقوں کی اپنی مرضی سے تقسیم کرے، ایسا اب ہرگز نہیں ہوگا۔ ایم کیو ایم رہنما نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ وہ سندھ کے حالات پر توجہ دیں اور حکومت کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں کو فی الفور روکیں۔
ایم کیو ایم کنونیئر نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کراچی کے دو میئرز ہوں گے تو سندھ کے بھی دو وزیراعلیٰ ہوں گے، ڈسٹرکٹ کی طرح صوبہ بھی انتظامی یونٹ ہے، نئے صوبے کا مطالبہ غداری نہیں بلکہ یہ آئینی اختیار ہے کہ آبادی کے لحاظ سے انتظامی یونٹ بنایا جائے۔
ایم کیو ایم کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ہم وزیراعلیٰ سندھ سے کوئی مطالبہ نہیں کریں گے، عوام کو مجبور نہ کیا جائے کہ وہ میدان میں آکر جدوجہد کریں گے۔
مکمل پریس کانفرنس
