تحریر: رضوان احمد فکری
بجٹ پر بجٹ پیش ہو رہے ہیں۔ وفاق کا بجٹ، صوبوں کا بجٹ، کچھ دن میں بلدیہ عظمی کراچی، ڈی ایم سیز اور کے ڈی اے، واٹر سیوریج بورڈ اور دیگر بجٹ، لیکن عوام شدید تذبذب اور حیرانی کی کیفیت میں ہیں۔ ان پر ٹیکسوں کا بوجھ، مہنگائی کا نا رکنے والا عذاب مسلط ہے۔
وفاق نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا تکنیکی اعلان کیا جس میں گریڈ 17سے 20تک پانچ فیصد اضافہ کیا اور ٹیکس اتنا لگا دیا کہ انکی تنخواہیں پہلے سے بھی کم ہوگئیں۔ سندھ کی حکومت نے 15فیصد اضافہ کرکے وفاق کو شرمندہ کردیا۔ افسران و ملازمین کے دل جیت لئے۔ لیکن بجٹ وفاق کا ہو یا صوبوں کا عوام دوست ہرگز نہیں۔ بوجھ در بوجھ، مہنگائی در مہنگائی پر مبنی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی جو وفاق کو 70فیصد اورصوبہ کو 60فیصد ٹیکس دیتا ہے جس سے ملک کا پہیہ چلتا ہے۔ اسکے لئے نہ وفاق کا دل کشادہ رہا نہ صوبہ کا۔ وفاق نے کراچی کے منصوبوں کے لئے 45.5بلین کی رقم مختص کی ہے۔ جو 9منصوبوں کے لئے ہے جس میں جبکہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PDSPٌ) کے لئے 500ملین رکھے گئے ہیں۔
جو کراچی کے صنعتی علاقوں آلودگی پلانٹ کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ 45.5بلین کے ن منصوبے وہ ہیں جو نواز شریف دور کے منصوبوں کی تکمیل کے لئے ہیں۔ جس میں میٹرو بس، اورنج بس اور دیگر وفاق کے منصوبے ہیں۔ اسی طرح سندھ حکومت نے 36بلین کی رقم کراچی کے منصوبوں کے لئے مختص کی ہے۔جس میں اے ڈی پی بھی شامل ہے۔ لیکن بجٹ میں کراچی کے سب سے بڑے ادارے بلدیہ عظمی کراچی کو وفاق اور صوبہ دونوں نے نظر انداز کیا ہے۔ اسی طرح جو منصوبے بین الاقومی معاہدوں کے تحت دکھائے گئے ہیں وہ بھی افسانے سے کم نہیں۔ ملک کو پالنے والے شہر کو جسکا انفرا اسٹرکچر بری طرح متاثر ہے تعصب کی نظر کردیا گیا۔
وزیر اعظم عمران خان جو ایم کیو ایم پاکستان کے اتحادی ہیں۔ اپنے وعدوں کو تکمیل دینے میں کوتاہی کے مرتکب نظر آتے ہیں بقول مشیر اطلاعات پی پی پی حکومت سندھ مرتضی وہاب کے کہ کراچی پیکیج کے وزیر اعظم کے اعلان کردہ 162ارب روپے ہوا ہوگئے اور حیدرآباد یونیورسٹی کا افتتاح کرکے وزیر اعظم گم ہوگئے۔ موجودہ بجٹ میں تحریک انصاف اور پی پی پی نے کراچی کو بری طرح انداز کیا ہے۔تحریک انصاف کی کراچی میں اراکین اسمبلی کی تعداد زیادہ وزراء کی تعداد زیادہ، صدر اور گورنر سندھ کراچی سے ہیں۔
لیکن کراچی کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لئے وہ بھی روایتی سیاست داں اور حکمراں ثابت ہوئے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی نشستوں پر قائم حکومت نے کراچی کے لئے نہ واٹر سیوریج، نہ انفرا اسٹرکچر، نہ بلدیاتی اختیارات، نہ فنڈز اور نہ کے ایم سی کے منصوبوں کو ترجیح دی۔صوبائی حکومت کی طرف سے تو بقول ایم کیو ایم گیارہ سال سے زیادتی ہو رہی ہے لیکن جنکے ٹیکسوں پر پورا ملک چلتا ہے انہیں ایک کھرب کی خصوصی گرانٹ، ترقیاتی فنڈز نہ دیکر وفاق اور صوبہ نے کراچی دشمنی اور تعصب کی ریت ڈال دی۔
ہر فورم پر کے ایم سی کو 500ارب وفاق اور 500ارب صوبہ کی جانب سے دینے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ جس میں ایم کیو ایم کے ساتھ حکومت میں آنے سے پہلے تک تحریک انصاف، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، ن لیگ اور دیگر جماعتیں ہم آواز تھیں۔ لیکن اب تحریک انصاف اس پر لب کشائی سے بھی محروم ہے۔ فکس اٹ جو شہر کی سب سے ہمدرد تنظیم بنتی تھی۔ ایم این اے بن کر عالمگیر محسود کراچی کو بھول چکے ہیں۔ کراچی کے اشوز پر تنہا متحدہ قومی موومنٹ آواز اٹھاتی نظر آتی ہے۔ صوبہ کی حکومت نے تو کراچی دشمنی میں حڈ کرتے ہوئے بلدیہ عظمی کراچی کو عید الفطر پر اسکا تنخواہوں کا شیئر نہیں دیا۔ ابھی تک کے ایم سی ملازمین عید کی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ کے ڈی اے کا حال بھی اس سے بدتر ہے جہاں کئی کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں دی جا رہیں۔ کراچی دشمنی میں ایم کیو ایم سے سیاسی رقابت کی بنیاد پر کے ڈی اے چھین لیا گیا۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ سٹی گورنمنٹ کے نظام میں جب یہ ادارہ کے ایم سی کو ملا تو ادارہ کے پاس کئی ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی کی رقوم نہیں تھیں۔ بھکاری ادارے کو سٹی گورنمنٹ نے سنبھالا انکی سہولیات کے ایم سی سے الگ رکھیں۔ یہی واٹر بورڈ، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے معاملے میں کیا گیا۔ لیکن پی پی پی حکومت نے نفرت کی بنیاد پر کرپٹ افسر منظور کا کا کے ساتھ ملکر ایس بی سی اے، کے ڈی اے، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ، ماسٹر پلان، ٹریفک انجینئرنگ بیورو، ماس ٹرانژٹ، ہیلتھ، لوکل ٹیکس، ایجوکیشن، میڈیکل، ٹریڈ لائسنس، مارکیٹنگ، ٹرانسپورٹ، بلدیہ عظمی کراچی کا کروڑوں روپے کا صدر میں پارکنگ پلازہ ہڑپ لیا۔ کے ڈی اے اور کے ایم سی کو متصادم کرایا۔ ڈی جی ناصر عباس شاہسے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر کے ایم سی کی املاک وسائل پر قبضہ کرتے رہے اور اب نیب کے بھرپور رگڑے میں ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ کے ڈی اے کی گورننگ باڈی، واٹر بورڈ کی چیئرمین شپ، ایل ڈی اے اور ایم ڈی اے کی گورننگ باڈی سے میئر کراچی کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا۔ کراچی کے بلدیاتی اداروں ڈی ایم سیز میں تعصب برتا گیا۔ لیاری اور ملیر کی ڈی ایم سیز کو ایک ارب کی امداد دی گئی جبکہ شہر کی ڈی ایم سیز کو نظر انداز کردیا گیا۔
ایک ایسی صورتحال میں کے ایم سی جسکی ریکوری حکومت سندھ نے متوازی خلاف قانون ڈی ایم سیز ملیر اور لیاری کو لا کھڑا کیا ہے بری طرح متاثر ہے۔ لینڈ جو کے ایم سی کا فنکشن ہے وہ تمام ڈی ایم سیزش سرانجام دیکر کے ایم سی ریونیو کو ناقابل تلافی نقصان دے رہی ہیں۔ چارجڈ پارکنگ ڈی ایم سیز کر رہی ہیں جس میں کے ڈی اے بھی شامل ہے جو قطعی غیر قانونی ہے۔ کے ایم سی بلڈنگز پر ان اداروں کے قبضے ہیں۔
پی پی پی کے وزراء اور دیگر انکی سرپرستی کر رہے ہیں جس سے کے ایم سی کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے۔ کے ڈی اے بچت بازار لگا رہی ہے جو کے ایم سی کا فنکشن ہے۔ متعدد معاملات کو عدالتی کاروائی کا حصہ بنا کر کے ایم سی کی ریکوری روک دی گئی ہے۔ کے الیکٹرک کے ایم سی کیواجبات ادا نہیں کر رہی۔ سب اسٹیشن، گرڈ اسٹیشن کے اربوں کے واجبات ادا نہیں کئے جا رہے۔
سندھ حکومت کے ایم سی کو واجبات دلانے کے بجائے یکمشت کے الیکٹرک ڈیوز کاٹ لیتی ہے۔ لیکن کے الیکٹرک سے کے ایم سی ڈیوز نہیں دلاتی۔ صدر آصف زرداری کے حکم پر پی ٹی سی ایل واجبات کے بغیر الاٹمنٹ کئے گئے۔ اورنگی میں پی ٹی سی ایل کو کے ایم سی کے ساڑھے چھ کروڑ ادا کرنے ہیں لیکن نہ ملنے پر کے ایم سی سندھ ہائی کورٹ میں معاملہ لے جا چکی ہے۔
پولیس اسٹیشن کمرشل جگہوں اور کے ایم سی مارکیٹ کی جگہوں پر بنے ہیں۔ جن کو ساڑھے چار کروڑ کے ایم سی کو ادا کرنے ہیں۔ڈی ایم سی ویسٹ کے ایم سی کے تین کروڑ تیس لاکھ کی نا دہندہ ہے۔ کے الیکٹرک لینڈ یوز کی مد میں کروڑوں کی نا دہندہ ہے۔لیکن کے ایم سی کو تباہ کرنے کے لئے سندھ حکومت اپنی رٹ کا استعمال نہیں کر رہی۔ میئر کراچی اپنے تعلقات اور شہر کے مفاد میں 100آر او پلانٹ، واش رومز، جمز اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے جا رہے ہیں جنکی جگہوں کا تعین ہوچکا ہے اور اس سے شہر کو بہت فائدہ ہوگا۔ وسیم اختر میئر کراچی، ڈپٹی میئر ارشد حسن میٹرو پولیٹن کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمان اور کے ایم سی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جمیل فاروقی، بلال منظر، علی حسن ساجد و دیگر ان منصوبوں پر دن رات لگے ہوئے ہیں جس سے شہر کی تکالیف دور ہونگیں۔ لیکن وفاق اور صوبہ سو رہا ہے۔ کراچی کو اون نہ کرنے والے آئندہ انتخابات میں کامیابی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس لئے بلا تخصیص رنگ و نسل و زباں دونوں کردار ادا کریں ورنہ کراچی کی عوام انہیں داستاں بنا دیگی۔ملک کی فکر مقدم رکھی جائے سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے تو یہی شہر ریونیو اور ترقی کا مظہر ہوگا ضروری ہے کہ تعصب کے بجائے میئر کراچی کو اختیارات اور فنڈز دیئے جائیں۔
