اسلام آباد: حساس اداروں کی تحویل میں موجود لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کے سنسنی خیز انکشافات ایک بار پھر سامنے آگئے۔
ذرائع کے مطابق عذیر بلوچ نے تفتیشی اداروں کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ پی پی قیادت نے اُن کے کہنے پر شاہ جہاں بلوچ، جاوید ناگوری، عبداللہ بلوچ اور ثانیہ ناز کو ٹکٹ دیا، کراچی آپریشن کے دوران فریال تالپور نے قادر پٹیل کے ذریعے اپنے گھرا بلایا جب میں پہنچا تو وہاں پہلے سے شرجیل میمن بھی موجود تھے۔
عزیر بلوچ نے انکشاف کیا کہ فریال تالپور نے اسلحہ اور بارود کی بھارتی مقدار ہمارے حوالے کی جبکہ دیگر معاملات سنبھالنے کا بھی کہا، ساتھ ہی میں نے آصف زرداری اور اویس ٹپی کی ہدایت پر شوگر ملز پر بھی قبضہ کیا جبکہ کراچی بلاول ہاؤس کے اطراف کے لوگوں کو حراساں کر کے گھر سستے داموں فروخت کرنے پر مجبور کیا۔
ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ نے ایرانی خفیہ ایجنسی کے ساتھ کام کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ حاجی ناصر نامی شخص نے پاک ایران سرحد عبور کروائی، جس کے بعد میں نے وہاں پہنچ کر ایرانی انٹیلی جنس کو آئی ایس آئی، ایم آئی ، ہیڈ کوارٹرز کے ایڈرس، کور ہیڈکوارٹر کے نام و دیگر تفصیلات فراہم کیں۔
ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ کے 29 اپریل 2016 کو جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کے سامنے ریکارڈ ہونے والے بیان کی کاپی سامنے آنے کے بعد لیاری گینگ وار کے سرغنہ کے اہل خانہ کی جان کو خطرہ ہے۔ لیاری گینگ وار کے سربراہ نے بتایا کہ اُس نے فشریز سے ماہانہ ایک کروڑ روپے بھتہ حاصل کیا جبکہ گینگ وار کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود بھی خریدا، پی پی قیادت کے کام کرنے پر میرے سر کی قیمت ختم کی گئی۔
عزیر بلوچ نے اعتراف کیا کہ اہم انکشافات کے بعد آصف زرداری، فریال تالپور ، قادر پٹیل و دیگر سے مجھے اور اہل خانہ کو خطرات ہیں، خدشہ ہے کہ قتل، زمینوں پر قبضوں اور بھتہ خوری میں ملوث جن افراد کے نام لیے وہ اہل خانہ کو نقصان پہنچائیں گے۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملٹری کورٹ کے ملزم عزیر بلوچ کی سزا کی صورت میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
