ڈی آئی خان دھماکا، 9جاں بحق، تحریک طالبان پاکستان نے ذمہ داری قبول کرلی

ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی، دہشت گردی کی کارروائی میں پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق ہوئے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق دھماکا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے دروازے پر ہوا جس خود کش تھا، فوری طور پر چار افراد جاں بحق جبکہ 10 زخمی ہوئے جبکہ پانچ زخمی مزید دم توڑ گئے۔

ڈی آئی خان میں کوٹلہ سیداں پولیس چیک پوسٹ پردہشت گردوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جیسے ہی ان اہلکاروں کے کانسٹیبل جہانگیر اور کانسٹیبل انعام کی میتیں ڈسٹرکٹ اسپتال پہنچائی گئیں تو مرکزی دروازے پر زور دار دھماکا ہوا۔

دھماکے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کے لیے شواہد اکٹھے کیے، دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو کمبائنڈ ملٹری اسپتال منتقل کیا گیا۔

تحریک طالبان پاکستان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستقبل میں مزید دھماکے کرنے کا اعلان کردیا، محمد خراسانی کا کہنا تھا کہ ابوعبیدہ غازی تقبلہ اللہ طے شدہ منصوبے کے تحت اسپتال میں منتظر تھے کیونکہ پولیس اہلکاروں کو بھی ٹی ٹی پی نے ہی نشانہ بنایا۔

جیسے ہی پولیس نفری لاش کے ہمراہ اسپتال پہنچی تو عبیدہ نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ حملہ ہمارے ساتھی حافظ ضیاءالرحمٰن  عرف عابدبھائی سکنہ ڈیرہ اسماعیل خان (رمک)  کے انتقام کے سلسلے میں کیا گیا جس کو اسی سی ٹی ڈی پولیس والوں نے 23 جون کو شہید کیا تھ۔