ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی، دہشت گردی کی کارروائی میں پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق ہوئے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق دھماکا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے دروازے پر ہوا جس خود کش تھا، فوری طور پر چار افراد جاں بحق جبکہ 10 زخمی ہوئے جبکہ پانچ زخمی مزید دم توڑ گئے۔
ڈی آئی خان میں کوٹلہ سیداں پولیس چیک پوسٹ پردہشت گردوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جیسے ہی ان اہلکاروں کے کانسٹیبل جہانگیر اور کانسٹیبل انعام کی میتیں ڈسٹرکٹ اسپتال پہنچائی گئیں تو مرکزی دروازے پر زور دار دھماکا ہوا۔
دھماکے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کے لیے شواہد اکٹھے کیے، دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو کمبائنڈ ملٹری اسپتال منتقل کیا گیا۔
If findings of forensic expert are true, it makes all responsibilities claimed by #TTP questionable. In past several groups had wrongly claimed responsibilities, including one of MQM's Manzar Imam which LeJ retracted after knowing Imam was not Shia but member of Tableeghi Jamaat https://t.co/TDUMSkTa7p
— Naimat Khan (@NKMalazai) July 21, 2019
تحریک طالبان پاکستان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستقبل میں مزید دھماکے کرنے کا اعلان کردیا، محمد خراسانی کا کہنا تھا کہ ابوعبیدہ غازی تقبلہ اللہ طے شدہ منصوبے کے تحت اسپتال میں منتظر تھے کیونکہ پولیس اہلکاروں کو بھی ٹی ٹی پی نے ہی نشانہ بنایا۔
جیسے ہی پولیس نفری لاش کے ہمراہ اسپتال پہنچی تو عبیدہ نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ حملہ ہمارے ساتھی حافظ ضیاءالرحمٰن عرف عابدبھائی سکنہ ڈیرہ اسماعیل خان (رمک) کے انتقام کے سلسلے میں کیا گیا جس کو اسی سی ٹی ڈی پولیس والوں نے 23 جون کو شہید کیا تھ۔
