بھارت سے سیاسی پناہ دینے کی درخواست، بانی ایم کیو ایم بڑی مشکل میں‌

لندن: ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے ایک بار پھر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے سیاسی پناہ دینے اور مالی امداد فراہم کرنے کی اپیل کردی، جس کے بعد وہ بڑی مشکل میں پھنس گئے۔

یاد رہے کہ بانی ایم کیو ایم پر برطانیہ کی کراؤن پراسیکیویشن سروس میں اشتعال انگیز تقریر کا مقدمہ جاری ہے جو انہوں نے 2016 میں پاکستان میں اپنے کارکنان سے کی تھی۔ الطاف حسین کا برطانوی عدالت میں ٹرائل جارہی ہے اور مجسٹریٹ نے اُن کی ضمانت میں جون 2020 تک توسیع کردی البتہ اگر وہ کہیں سفر کرنا جائیں گے تو انہیں عدالت سے اجازت طلب کرنا ضرور ہوگا کیونکہ نقل و حرکت پر پابندی ہے۔

بانی ایم کیو ایم کو گزشتہ ایک سماعت قبل بہت سخت شرائط پر ضمانت دی گئی تھی، مجسٹریٹ نے اُن کے ٹخنے پر لوکیٹر باندھ دیا تھا جبکہ الطاف حسین کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ سوشل میڈیا پر بھی اپنے کارکنان سے کسی بھی قسم کا خطاب نہ کریں اور نہ ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ استعمال کریں۔

بانی ایم کیو ایم نے بھارت سے سیاسی پناہ کی درخواست کردی

بانی ایم کیو ایم کے وکلا نے عدالت میں درخواست جمع کرائی تھی جس کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر خطاب کی اجازت ملی تو انہوں نے گزشتہ ہفتے بھی خطاب کرتے ہوئے مودی سے سیاسی پناہ دینے کی درخواست کی تھی اور یقین دہانی کرائی تھی کہ بھارت منتقلی کے بعد وہ اور اُن کے ساتھی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے۔

ذرائع کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے منتخب کردہ برطانوی وکیل نے دونوں خطابات کے شواہد جمع کرلیے جنہیں اب عدالت میں جمع کرائے گا، پاکستانی کے وکیل کو یہ امید ہے کہ حالیہ خطابات عدالتی ضمانت کی خلاف ورزی ہیں۔

الطاف حسین نے رواں ہفتے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ میرے آباؤ اجداد بھارت میں مدفون ہیں، مجھے وہاں آنے کی اجازت دی جائے تاکہ ہم اُن کی قبروں پر جاسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: