کالعدم تنظیمیں‌ داعش کو کراچی میں‌ منظم کرسکتی ہیں، سی ٹی ڈی

کراچی: سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی حالیہ تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ فرقہ وارانہ نفرت اور کالعدم تنظیموں کی موجودگی، دہشت گرد تنظیم داعش کو عسکریت پسندوں کی بھرتی کے ذریعے پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں اپنے پنجے گاڑنے کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔

سی ٹی ڈی کی تحقیق میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق عراق اور شام میں داعش کا وحشیانہ قبضہ اور یورپ میں اس کی موجودگی نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی تاہم مشرقی ممالک اور خاص طور پر پاکستان میں اس کا بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر کسی کا دھیان نہیں گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق داعش اپنے رہنما ابوبکر البغدادی کے ‘عالمی خلافت’ کے مقصد کو حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ دیگر عسکریت پسند گروہ اپنے حکمرانوں کے خلاف مقامی تنازعات پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

متعدد جہادی افراد ابوبکر البغدادی کے نظریئے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ دیگر مشترکہ دشمنوں اور مخالفین کے باعث اس نظریئے کے حامی ہیں، ان میں دیہی مرد و خواتین بھی شامل ہیں اور وہ عسکریت پسند بھی جو پاکستان میں اپنے شدت پسند ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے راہیں تلاش کررہے ہیں۔

تاہم کئی ایسے ممکنہ ہمدرد بھی ہیں جنہوں نے داعش سے اپنی حمایت اب تک واضح نہیں کی مگر وہ اس تحریک کے پاکستان میں پھلنے پھولنے کے منتظر ہیں۔

سی ٹی ڈی کی رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی کی وجہ سے داعش پاکستان میں اپنے قدم مضبوط کرنے کے مزید مواقع حاصل کرسکتی ہے۔

داعش کی جانب سے خلافت کا دعویٰ سامنے آنے کے بعد سے یہ گروہ پاکستانی جہادی گروہوں کی توجہ حاصل کررہا ہے، ان میں سے ایک جس پر تجزیہ کاروں کی نظر ہے وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہے۔

ٹی ٹی پی ایک مرکزی گروپ نہیں بلکہ 42 سے زائد چھوٹے چھوٹے گروہوں پر مشتمل ہے۔

2007 میں اپنی ابتداء کے بعد سے ٹی ٹی پاکستان میں اسکولز، انسداد پولیو ورکرز، سیاسی رہنماؤں، عسکری حکام اور دیگر پر ہونے والے درجنوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرچکا ہے۔

آغاز میں ٹی ٹی پی کا فضل اللہ دھڑہ جس کی سربراہی ملا فضل اللہ کرتا ہے وہ داعش کی جانب جھکتا دکھائی دیا۔

دوسری جانب ٹی ٹی پی کا نام اس وقت متاثر ہوتا دیکھا گیا جب 2014 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں اس کا سربراہ حکیم اللہ محسود مارا گیا۔

اس سے قبل اس تنظیم کے متاثر ہونے کی وجوہات پاکستانیوں شہریوں کے خالف بلاامتیاز کارروائیاں تھیں۔

علاوہ ازیں جماعت میں پاکستانی حکومت سے مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کے معاملے پر بھی واضح اختلاف پایا جاتا تھا، اس طرح یہ جمادی تقسیم ہوتے رہے اور اپنے گروہ بناتے رہے۔

تحقیق کے مطابق’جب داعش نے خلافت کا دعویٰ کیا تو تحریک طالبان پاکستان کے کئی جہادی اس نئے مطالبے کا حصہ بن گئے’۔

اس وقت ٹی ٹی پی کے ترجمان، اورکزئی، خیبر اور کرم قبائلی ایجنسیوں اور پشاوراور ہنگو کے ٹی ٹی پی سے متاثرہ ضلعوں نے الابغدادی سے غیر مشروط اتحاد کا اعلان کیا، کچھ وقت میں کئی ٹی ٹی پی کمانڈرز نے بھی اس کی پیروی کی اور پاکستان میں داعش کا حصہ بن گئے۔

‘داعش اب پاکستان کو خراسان والیت کا حصہ قرار دیتا ہے جس میں افغانستان اور وسط ایشیا کے کئی حصے شامل ہیں’۔

اسی وقت کئی ٹی ٹی پی کمانڈرز نےداعش سے دوری اختیار کیے رکھی اور ان میں سے ایک تحریک طالبان پاکستان کا دھڑا جماعت الاحرار ہے۔

داعش سے اتحاد کا اعلان کرنے والا پہلا گروہ تحریک خلافت پاکستان تھا جو پہلے ٹی ٹی پی کا ہی حصہ تھا۔

سی ٹی ڈی سندھ کی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تحریک خلافت پاکستان کا ایک چھوٹا گروہ متحرک ہے۔

تحقیق اس خدشے کا اظہار بھی کرتی ہے کہ داعش صوبہ پنجاب کے کچھ علاقوں اور کراچی میں، جہاں یہ انٹرنیٹ کی مدد سے فعال ہے، دہشت گردوں کو بھرتی کرسکتی ہے۔

سی ٹی ڈی نے اس خیال کا اظہار بھی کیا ہے کہ داعش اور القاعدہ کے درمیان عالمی جہادی تحریک کی قیادت حاصل کرنے کے حوالے سے مقابلہ جاری ہے۔

تحقیق کے مطابق جس طرح عراق اور شام میں فرقہ وارانہ نفرت داعش کے پھیلاؤ میں مددگار ثابت ہوئی اسی طرح پاکستان میں موجود اہم سنی عسکریت پسند گروہ یہاں داعش کے پھیلاؤ کی راہ ہموار کرسکتے ہیں، اور پاکستان میں پائی جانے والی فرقہ واریت داعش کے لیے بہت مددگار ہوسکتی ہے۔

سی ٹی ڈی کی تحقیق میں بلوچستان حکومت کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو 2014 میں وفاقی حکومت کو جمع کرائی گئی تھی اوراس میں کہا گیا تھا کہ داعش نے پاکستان میں فرقہ وارانہ عسکریت پسند گروہوں کو ساتھ مل کر کام کرنے کی تجویز دی ہے۔

اس تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ قیادت کی عدم موجودگی داعش کا ایک اہم مسئلہ ہے اور اسی باعث وہ نئے عسکریت پسندوں کی بھرتی کرنے میں ناکام ہیں۔

بشکریہ ڈان نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں: