Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
مصطفیٰ کمال کی عبوری ضمانت منظور، نیب پر شدید تنقید | زرائع نیوز

مصطفیٰ کمال کی عبوری ضمانت منظور، نیب پر شدید تنقید

پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین مصطفیٰ کمال کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو

میرے لئے آج کا دن آج کا موقع بڑا افسوسناک یے، میں نے زندگی میں نہیں سوچا تھا کہ جو دور میں نے گزارا جتنی ایمانداری کی اس کا صلح یہ ہوگا، میرے پاس موقع تھا پیسہ کمانے کا لیکن میں نے وہ کام نہیں کیا جس سے مجھے رسو ہونا پڑے، آج میرے رشتہ داروں کے پاس بے نامی اکائونٹ یا جائیداد نہیں ہے، اس شہر میں 300 کروڑ خرچ کرنے کے بعد بھی میں نے کوئی چوری نہیں کی، آج مجھ پر ایسا الزام ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ مجھ پر ایسا الزام ہے جیسے کہ میں نے قتل کردیا اور جو قتل ہوا وہ سامنے گھوم رہا ہو، میرے خلاف مضحکہ خیز الزام لگایا جارہا یے، قانون پر عملدرآمد کرکے میں نے اپنی ضمانت حاصل کی، میں نے زندگی میں ایمانداری کے ساتھ عزت کمائی پوری دنیا کو پتہ ہے میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، مجھے پتہ ہے میرا کیس ثابت نہیں ہوسکتا آخر میں مجھے بری کردیا جائے گا۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اگر میرا الزام مجھ ہر ثابت ہوا تو مجھے پھانسی کی سزا دے دینا، مجھ پر الزام ہے کہ میں نے کلفٹن کے پلاٹس غیر قانونی الاٹ کیے، 1982 میں ان پلاٹس کی الاٹمنٹ ہوئی میری نظامت 2005 میں آئی، میرا 1982 کی الاٹمنٹ سے کیا واسطہ جو مجھ پر ڈالی جارہی ہے، 1982 کی الاٹمنٹ میرے سر ڈالی جارہی ہے، ان پلاٹس کی نہ کوئی غیر قانونی الاٹمنٹ ہوئی نہ سرکاری نقصان ہوا، میں ریفرنس سائن کرنے والوں سے کیا شکوہ کرو، نیب سے لوگوں کا اعتبار اٹھ گیا، اس ادارے کو دفن کردیا گیا،اب کسی چور یا ڈاکو کو بھی پکڑیں گیں تو لوگ یقین نہیں کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ میرے لئے میری عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں اب ادارے ثابت کریں کہ یہ جرم ہوا ہے، جرم ثابت ہو تو مجھے سزا دیں میں تیار ہو، جب لوگ سو رہے ہوتے تھے میں نے جاگ کر اس شہر کو بنایا، کوئی بھی اس ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہے تو اس پر جھوٹے الزام لگا دیے جاتے ہے، پاکستان کا نظام مجھ جیسے آدمی کو بھی گھسیٹ رہا ہے، پاکستان کو چلانے والے مقتدر حلقوں کو سوچنا پڑے گا،میں اپنے اوپر لگے الزامات پر صبر کر رہا ہو میں اپنا مقدمہ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ میں یہاں کھڑے ہوکر ایسی کی تیسی کر سکتا ہو لیکن مجھے میرے اللہ پر بھروسہ ہے، مصطفی کمال کے پاس اپنے شہر میں اپنا گھر تک نہیں اور نہ میرا پیٹرول پمپ ہے نہ بے نامی اکائونٹ، میرے پاس جائیدادیں ہو تو پھر میں آتا کورٹ ویکٹری کا نشان بناتا ہوا، ہمارا جلسہ اور دوسروں کے جلسے کی فوٹیج نکال کر دیکھ لیں کس کا کامیاب جلسہ ہوا۔