کراچی کے بلدیاتی اداروں کو تشہیری اختیارات سے محروم کرکے من مانیوں کی بنیاد پر اشتہارات جاری کئے جارہے ہیں مئیر کراچی اور ضلعی بلدیات کے چیئرمینزکا کردار سوالیہ نشان ؟
وزیر بلدیات سندھ سعید غنی اور مشیر اطلاعات سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب اس اہم اختیار کو واپس بلدیاتی اداروں کے سپرد کرنے کا اہم فیصلہ کریں تو یہ اچھا اقدام ہوگا۔۔
مختلف ادوار میں سیاسی چپقلشوں و ذاتی مفادات کو بنیاد بنا کر یہ اختیار چھیننے کی کوشش کی گئی تاکہ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کی تشہیر کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ایک خطیر رقم بلدیاتی اداروں سے وصول کی جائے۔
کراچی (رپورٹ:سیدمحبوب احمدچشتی)
شہرقائدکے بلدیاتی ادارے اپنے ابتدائی دور سے اخباری صنعت کی معاونت میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں مختلف ادوار نے سیاسی چپقلشوں یا ذاتی مفادات کو بنیاد بنا کر یہ اختیار چھیننے کی کوشش کی گئی تاکہ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کی تشہیر کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ایک خطیر رقم کو وصول بلدیاتی اداروں سے وصول کیا جائے اور من مانیوں کی بنیاد پر اشتہارات جاری کرکے اخبارات کی مارکیٹنگ سے کمیشن بٹورے جائیں شرجیل انعام میمن کے دور وزارت میں یہ سب کچھ کھل کر سامنے آیا اور نیب میں ریفرینسز دائر ہونے سے ان کی گرفتاری کے بعد یہ سلسلہ رکنا چاہیئے تھا مگر اب بھی یہ عمل منظم انداز میں جاری ہے کراچی کے بلدیاتی اداروں کو تشہیری اختیارات سے محروم کرکے من مانیوں کی بنیاد پر اشتہارات جاری کئے جارہے ہیں جس میں کرپشن کا عنصر نمایاں ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ مئیر کراچی سمیت ضلعی بلدیات کے چئیرمینز اس اہم اختیار کو واپس لانے کی رتی برابر بھی کوشش نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کو آئے دن منفی پہلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بلدیاتی اداروں کی ہر گزرتے دن کے ساتھ مثبت سرگرمیاں ماند پڑتی جارہی ہیں دوسری جانب اخبارات کی صنعت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ایک طرف صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے پیسے جمع کرنا مشکل ہو رہا ہے تو دوسری طرف اخبارات کی مارکیٹنگ کے شعبے کے ملازمین دھڑا دھڑ فارغ کئے جارہے ہیں جہاں صحافی کسی کو اپنی تنخواہ بتاتے ہوئے ہچکچا رہے ہیں وہیں زرد صحافت بھی اپنے عروج پر پہنچ رہی ہے جس کی وجہ اخراجات سے انتہائی کم تنخواہیں ہیں یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ اخبار کا پیٹ صرف خبروں سے نہیں بھرتا بلکہ اسے رواں دواں رکھنے کیلئے اشتہارات کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی ہوتی ہے موثر خبریں اخبار میں روح ڈالتی ہیں تو اشتہارات اسے زندگی دینے کیلئے آکسیجن کا کام کرتے ہیں بلدیاتی اداروں کے سربراہان کی اپنے جائز اختیار کو واپس نہ لئے جانے کی وجہ سے ایک انہیں ان دنوں منفی خبروں کی صورت میں دشواریوں کا سامنا ہے وہیں اخباری صنعت دشواری کا شکار ہے مئیر کراچی اور ضلعی بلدیات کے چئیرمینز اس سلسلے میں وزیر بلدیات سندھ سعید غنی اور مشیر اطلاعات سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب سے اس اہم اختیار کو واپس بلدیاتی اداروں کے سپرد کرنے کی بات کریں تو بہت ممکن ہے کہ یہ اختیار انہیں واپس کر دیا جائے کیونکہ ماضی گواہ ہے کہ یہ اختیار آج بھی بلدیاتی اداروں کا ہے کیونکہ کراچی کا ہر بلدیاتی ادارہ کارپوریشن کی صورت میں فرائض سر انجام دے رہا ہے جو کہ خود مختار اداروں میں شمار کئے جاتے ہیں جس کے زیادہ تر فیصلے کرنے کا اختیار اس کی ایڈمنسٹریشن یا کونسل کے پاس ہے سندھ انفارمیشن یا ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ،لوکل فنڈ آڈٹ کی جانب سے اشتہارات کے حوالے سے قدغن لگایا جانا درست دکھائی نہیں دے رہا ہے اور دور جدید کے سیاہ صحافتی رہنما اصولوں کے تحت سیاہ چمکتی گاڑیوں میں ،قیمتی سگریٹ،شاندار گھڑی پہن کر اگر صحافی کہیں جاتا ہے تو آن لائن منتقلی کاپروگرام انکے چائے ختم کرنے سے پہلے ہی مکمل کرلیا جاتاہے معاشرے میں انکا مقام (ظاہری) طور پر اونچا دکھائی دیتا ہے بس معززشخصیت کو سچ وحق
(کسی اور کی مرضی) کا لکھنا اور بولنا ہوتاہے بصورت دیگر ایک ادارے سے دوسرے اور پھر تیسرے ۔۔اور اور مسلسل سچ وحق بولنے پر آزادی صحافت گوہرنایاب مشروب پی کر کہیں سوجاتی ہے ذرائع وحقیقی صحافتی کرداروں کے مطابق یہ سہولت موٹرسائیکل والے صحافیوں کومیسر نہیں ہے ،اور وجہ اب اس حد تک جاچکی ہے جبری برطرفیوں کے ساتھ صحافیوں کی بے شمار بننے والی صحافتی تنظیموں کی خاموشی نے ہردور کے ارباب اختیار کو یہ موقعہ فراہم کیا کہ وہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کے فامولے کو استعمال کرلیں ،اب اشہارات بلدیاتی اداروں سے لینے کے بعد صحافیوں اور مارکیٹنگ کے شعبے سے وابستہ ملازمین اسکے اثرات مرتب ہورہے ہیں جسکا فوری ومثبت حل نکالنا ہوگا۔
