Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
عمران خان سے پہلے ضیاء الحق اور بھٹو کی اقوام متحدہ تقریر، نتائج کیا نکلے تھے؟ | زرائع نیوز

عمران خان سے پہلے ضیاء الحق اور بھٹو کی اقوام متحدہ تقریر، نتائج کیا نکلے تھے؟

تقریروں کا معاملہ بھی بہت دلچسپ ہے۔۔۔ اقوام متحدہ میں کسی پاکستانی سیاستدان کی سب سے مشہور تقریر بھٹو صاحب کی تقریر تھی جس میں جذبات بھی تھے ، لفاظی بھی ، امن کا بھاشن بھی تھا اور کچھ کر گزرنے کی دھمکیاں بھی ڈاکومنٹس پھاڑے گئے اور بھٹو صاحب اجلاس چھوڑ کر چلے گئے … نتیجہ کیا نکلا تھا ؟ 0/100

اسی اقوام متحدہ کے فورم پر ضیاء الحق نے تقریر کی جسے پاکستانی میڈیا نے تاریخ سزا قرار دیا تھا … فرمایا گیا کہ جنرل نے عالم اسلام کی ترجمانی کی ہے اور اقوام مغرب کو آئینہ دکھایا ہے … بے نظیر بھٹو میں دانش بھی تھی ، لیاقت بھی اور اعلی درجے کی مدبرانہ لفاظی بھی … انہوں نے بھی 1996 میں کشمیر کے موضوع پر اقوام متحدہ میں ایک انتہائی خوبصورت تقریر کی تھی ….. مگر نتیجہ ؟ کوئی نہیں ….

آپ پاکستان سے اگر باہر نکلیں اور ایک نظر ان تقریروں پر ڈالیں جو اقوام متحدہ میں یاسر عرفات سے لے کر احمدی نژاد ، رابرٹ موگابے ، کرنل قذافی ، صدر صدام ، ہیوگو شاویز اور فیڈرل کاسترو نے کی ہیں … ان کی کیا افادیت رہی ؟ حقیقت یہ ہے کہ اصلی خارجہ پالیسی اور عالمی فورمز پر تقریروں میں بہت زیادہ فرق ہے …

مثال کے طور پر وزیراعظم عمران خان نے فرمایا ، دنیا بھارت کے ساتھ تعلقات محض ٹریڈ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اخلاقی بنیادوں پر قائم کرے جس میں بھارت کا ریکارڈ خراب ہے …….. جس وقت وہ یہ بات کر رہے تھے ، اسی دن اور اسی فورم میں پاکستان نے یمن کے مسئلے پر سعودی عرب کے حق میں ووٹ ڈالا … کیا یمن اخلاقی معاملہ نہیں ؟ کیا یمن کے مسئلے پر سعودی عرب کا ریکارڈ خراب نہیں ؟

اسی طرح خان صاحب نے فرمایا کہ کشمیریوں کو بھارت نے محبوس بنایا ہوا ہے ، اس طرح کوئی جانوروں کو بھی قید نہ کرے … میں خان صاحب کی اس بات کو سپورٹ کرتا ہوں اور یہ واقعی وہ جرم ہے جس کی مذمت لازمی ہے مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ یمن بھی چاروں طرف سے محبوس ہے ، یمنیوں پر زمین سے گولے پھینکے جا رہے ہیں تو آسمان سے جہاز بمباری کر رہے ہیں اور خوراک کا شدید ترین بحران ہے – کیا پاکستان نے جب یمن کے مسئلے پر سعودی عرب کو سپورٹ کیا ، تو کیا اس وقت ہماری وہ اخلاقی پوزیشن قائم رہی تھی جس کی طرف وزیراعظم نے مغربی دنیا کو متوجہ کرنے کی کوشش کی ؟

جب چین میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ہونے والے مظالم پر بات ہوتی ہے تو خان صاحب فرماتے ہیں کہ انہیں اس کی معلومات نہیں … وہ یہ بات مسلسل کر رہے ہیں … کیا چین کے معاملے میں سب ٹھیک ہے کی خارجہ پالیسی اور کشمیر کے معاملے میں اخلاقی جواز کی دہائی خارجہ پالیسی میں ایسا تضاد نہیں جو دنیا میں ہمارے مؤقف کی اخلاقی حیثیت کو مشکوک نہیں بنا دیتا ؟ یا ہم جو کریں وہ صحیح ہے اور دوسرے اگر وہی کریں تو وہ ظالم ہیں ؟

حقیقت یہ ہے کہ ہم چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں ماہر ہیں … دور نہ جایئے ، جب خان صاحب اور صدر ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تھی تو روایتی و سوشل میڈیا پر ویسا ہی ماحول تھا جیسا اب ہے …. “خان صاحب نے اپنے آپ کو منوا لیا ، خان صاحب چھا گئے ، خان صاحب واہ واہ ، خان صاحب کا اثر ہے کہ امریکہ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کرے گا وغیرہ وغیرہ” …… مگر جو نتیجہ چند دنوں بعد سامنے آیا جب کشمیر کے مسئلے پر نہ امریکہ سے کوئی سفارتی مدد آئی اور نہ وہ فنڈ اور امدادیں جن کا وعدہ کیا تھا …. اب شاید کوئی احمق ہی اس دورے کو تاریخ ساز کہے –

خان صاحب کی اس تقریر کے نتائج برآمد ہوں گے آپ چند دنوں میں ہی دیکھ لیں گے – درخواست یہ ہے کہ اپنی آنکھیں اور ذہن کھلے رکھیں اور ان حالات و واقعات سے سیاسی شعور حاصل کریں …. ورنہ ہر اس ایونٹ پر جسے میڈیا بڑھاوا دے گا آپ واقعی میں ہیجان میں مبتلا ہو کر دیوانہ وار ناچنا شروع کر دیں گے –

اعجاز احمد کی فیس بک سے لی گئی تحریر