Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
سانحہ حیدرآباد، 31 سال بعد بھی متاثرین انصاف کے منتظر | زرائع نیوز

سانحہ حیدرآباد، 31 سال بعد بھی متاثرین انصاف کے منتظر

حیدرآباد میں ہونے والے سانحہ حیدرآباد کو 30 ستمبر کو 31 سال کا عرصہ بیت گیا مگر متاثرین کو انصاف نہ مل سکا اور دو سال قبل اس کیس کو بند کر کے ملزمان کو شک کی بنیاد پر بری کردیا گیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی نے 31ویں برسی کے موقع پر شہدا کے خاندانوں کو سلام تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’شہدا کی ثابت قدمی تحریک کا اثاثہ ہے جنہوں نے حوصلوں کو دوام بخشا، ہمارا یہ عہد ہے کہ شہیدوں، اسیروں کی قربانیوں کو کسی صورت رائیگا نہیں جانے دیا جائے گیا کیونکہ تحریک ان کی ہیامانت ہے جس میں خیانت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ حیدرآباد، لطیف آباد، پیر آباد، قلعہ چوک، گرونگر چوک، تلسی داس روڈ، گاڑی کھاتہ اور کالی موری سمیت مختلف ہونے والا قتل عام آج بھی ہماری نظروں کے سامنے ہے۔

ایم کیو ایم کے سابق کنونیئر اور تنظیم بچاؤ تحریک کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی تعزیتی پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے شہدا اور لواحقین کے لیے دعا کی۔

سانحہ 30 ستمبر 1988 حیدرآباد کے شہدا کی برسی پر ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کا درد بھرا پیغام جاری کیا۔

یاد رہے 30ستمبر 1988 کو حیدرآباد کے مختلف پرہجوم مقامات پر فائرنگ کر کے صرف 15منٹ میں 250 افراد قتل کو کر دیا گیا تھا پاکستان کی تاریخ میں اتنے کم عرصے میں اتنا بڑا قتل عام پہلے کبھی نہیں ہوا تھا جہاں ہر گلی اور چوراہا خون میں ڈوب گیا تھا۔

اسپتال ہلاک اور زخمی ہونے والوں سے بھرگئے اور شہر بھر میں ایمرجنسی قائم کردی گئی تھی یہ وہ وقت تھا جب سندھ میں لسانی بنیادوں پر سیاست عروج پر تھی اور کئی بار لسانی فسادات نے صوبے میں سر اٹھایا جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

سانحہ حیدرآباد میں مسلح موٹرسائیکل سواروں سڑکوں ، بازاروں اور گلیوں میں نہتے اور معصوم افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایا عینی شاہدین نے ان ملزمان کی شناخت قوم پرست رہنما ڈاکٹر قادر مگسی اور ان کے ساتھیوں کے طور پر کی، عوامی دباؤ پران کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

سانحہ حیدر آباد: 250 افراد کو قتل کرنے کا الزام، ملزمان باعزت بری

دوسری جانب قوم پرست رہنما ڈاکٹر قادرمگسی نے اس واقعہ میں ملوث ہونے کی سخت الفاظ میں تردید کرتے ہوئے الزامات کو بے بنیاد اوربد نیتی پرمشتمل قراردیا تھا۔

اس واقعہ سندھ میں سندھی بولنے والے اور اردو بولنے مقامی افراد کے درمیان خلیج اور تفریق کو مزید گہرا کردیا جس نے آئندہ آنے والے سالوں میں سیاست پر دور رس اثرات چھوڑے۔

ڈاکٹر قادر مگسی نے 1982 میں لیاقت میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور اسی کالج سے عملی سیاست کا آغاز جئے سندھ اسٹوڈیٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے کیا بعد ازاں اختلافات کے باعث علیحدگی اختیار کی اور ترقی پسند ونگ کی تشکیل دی جسے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ترقی پسند پارٹی کے نام سے پورے سندھ میں پھیلایا۔