پیغمبروں نے غلطیاں کیں تو ہم کیسے بچ سکتے ہیں، محمد بن سلمان

ریاض: سعودی ولی عہد اور بااثر شہزادے محمد بن سلمان نے جمال خشوگی کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب پیغمبروں نے غلطیاں کیں تو ہم کیسے بچ سکتے ہیں۔

امریکی چینل سی بی ایس کے پروگرام میں جب شہزادہ محمد بن سلمان سے سوال کیا گیا کہ اب تک انہوں نے اپنی غلطیوں سے کیا سبق سیکھے ہیں اور اب تک آپ سے کتنی غلطیاں ہوئی ہیں؟ تو ان کا جواب تھا کہ پیغمبروں نے بھی غلطیاں کیں تو ہم انسان کیسے غلطیوں سے مبرا ہو سکتے ہیں؟

شہزادہ محمد بن سلمان سے خاتون نے براہ راست سوال کیا کہ کیا انہوں نے گذشتہ سال اکتوبر میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل اور لاش کے ٹکڑے کرنے کا حکم دیا؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں، کیونکہ یہ ایک سنگین جرم ہے لیکن سعودی عرب میں رہنما اور حکمران کی حیثیت سے اس قتل کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے، خاص طور پر اُن حالات میں یہ قتل ایسے افراد نے کیا جو سعودی حکومت کے لیے کام کررہے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’جب سعودی حکومت کے لیے کام کرنے والے حکام کے ہاتھوں کسی سعودی شہری کے خلاف جرم کا ارتکاب ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ایک لیڈر کی حیثیت سے مجھے اس کی ذمہ داری لینی ہوگی۔ یہ قتل ایک غلطی تھی۔‘ محمد بن سلمان نے کہا کہ سفارت خانے میں صحافی کے قتل کے بعد سخت دباؤ میں آگئے تھے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ان کے علم میں لائے بغیر یہ قتل کیا گیا۔ سعودی حکومت نے کئی بار اس بات کی تردید کی ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل میں شہزادہ محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے۔

محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب ایران تنازع کا فوجی نہیں بلکہ سیاسی حل چاہتا ہے، جنگ کی صورت میں تیل کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: